خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 428

سلم مہمان نے شکایت کی جب ہم اترے تو وہاں کوئی نہ تھا۔حالانکہ وہاں ایسے آدمی جانے چاہئیں جو ایک ایک دو گھنٹہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ سکتے ہوں اور پھر چل پھر سکتے ہوں اور اس کے ساتھ لمبا انتظار بھی کر سکتے ہوں۔جو شخص انتظار میں گھبرا جاتا ہے وہ استقبال نہیں کر سکتا۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ لوگ ان کو پہچانتے ہوں اور فوراً اتنے بڑے انبوہ میں ان کے پاس آجائیں اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مہمانوں کو ڈھونڈیں ورنہ مہمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔اس کے لئے وہ آدمی درکار ہیں جو۔لالٹین کے پاس کھڑے رہ کر لمبے عرصہ تک انتظار کر سکتے ہوں اور گھبرائیں نہیں۔یوں وغیرہ کے انتظام کے لئے وہ شخص بھیجا جائے جو صابر ہو۔پچھلے سے پچھلے سال جس شخص کے ذمہ یہ کام تھا وہ دفتر میں تو خوب کام کر سکتا ہے۔مگر یہ کام اس سے نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے فساد ہو گیا۔پس کام کرنے والوں کے انتخاب میں لوگوں سے مشورہ لیا جائے۔اور پرانے لوگوں سے جو کام کرتے رہے ہیں مشورہ کیا جائے اور پھر اہلیت کو دیکھ کر لوگوں کو منتخب کیا جائے۔اس کے بعد قادیان کی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ باہر سے جو مہمان آتے ہیں۔ان کے لئے جگہ کی تنگی ہوتی ہے۔مہمان خانہ میں تو آنے والوں کا پچاسواں حصہ بھی نہیں ٹھر سکتا۔اس لئے مختلف لوگوں کے مکانوں میں انتظام کیا جاتا رہا ہے۔پس اب بھی جن لوگوں کے پاس زائد مکان ہیں وہ حسب معمول یا تو اپنے سارے کے سارے مکان مہمانوں کے لئے خالی کر دیں یا بعض حصہ منتظمین کو سپرد کر دیں۔دوسری نصیحت یہاں کے عام لوگوں کے لئے یہ ہے کہ اخراجات جلسہ بڑے ہوتے ہیں باہر کے لوگوں کی طرف سے جلسہ کے لئے ہزاروں روپیہ آتا ہے اس میں ہمارا چندہ بھی زیادہ ہونا چاہیئے ایک تو احمدی ہونے کے لحاظ سے ایک مقامی اور میزبان۔گو جو لوگ آئیں گے وہ مہمان تو خدا کے ہوتے ہیں مگر ہمارے بھی مہمان ہیں۔کیونکہ ہم قادیان میں رہتے ہیں۔پس لحاظ قادیان کے باشندے ہونے کے اور کیا بہ لحاظ یہاں رہنے کے جو لوگ ہجرت کر کے یہاں آئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس میں چندہ دوسروں کی نسبت زیادہ دیں اور اس معاملہ میں میں دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ فراخ دلی سے حصہ لیں۔تیسری بات یہ ہے کہ کارکن میسر آجائیں۔اس کے لئے ہمارے احباب کو اپنی خدمات کو پیش کرنا چاہیے کیا ہمارے احباب چند دنوں کے لئے اپنے کاروبار کو نہیں چھوڑ سکتے اگر نہیں تو یہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کے لئے بہت دیر کے لئے اپنے کام چھوڑ سکتے ہیں۔روزے میں کیا ہوتا ہے۔یہی کہ کھانے کے وقت کو پیچھے ہٹا دیا جاتا ہے صبح کا کھانا دس بجے کی بجائے چار بجے کھا لیا جاتا ہے۔اور شام کا کھانا اپنے وقت پر لیکن اگر ایک شخص اتنا توقف بھی نہ کر سکے۔تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خدا کے لئے ایسا شخص بھوک پیاس کو برداشت کر سکتا ہے۔بس اس طرح خداتعالی کے حکم اور