خطبات محمود (جلد 7) — Page 408
۴۰۸ گے کہ آپ کے دعوی کے دلائل یہ ہیں اس طرح وہ ہیں پچیس سال بلکہ اس سے بھی زیادہ لمبے عرصہ کا پروگرام تیار کر لیتے ہیں۔حالانکہ یہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس عرصہ تک جس شخص کو تبلیغ کرنی ہے وہ زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔اور خود ہم بھی آخری مسئلہ بتانے تک زندہ رہیں گے یا نہیں۔پس حق فورا پہنچاؤ اور دلیری سے پہنچاؤ۔اگر کسی وجہ سے اس وقت نہیں سن سکتا تو کل سناؤ۔لیکن سنانے میں ہرگز کو تاہی نہ کرو۔یہ مت خیال کرو کہ اگر ہم سنائیں گے تو لوگ گھبرائیں گے۔یہ سچ ہے کہ جب ہم سنائیں گے تو لوگ ضرور گھبرائیں گے کیونکہ ان کے دلوں پر زنگ ہیں مگر تم مایوس نہیں ہو گے تو پتھر کے دل بھی نرم کر کے اپنے ساتھ ملالو گے۔کیا تم پہاڑوں کے غاروں کو نہیں دیکھتے۔یہ غار دریاؤں نے بنائے ہیں۔پانی برستا ہے اور وہ باہر نکلنے کے لئے زور لگاتا ہے۔اور آہستہ آہستہ اپنا راستہ نکال لیتا ہے۔حتی کہ اتنی بڑی بڑی غاریں بن جاتی ہیں جو میلوں میل لمبی ہوتی ہیں۔یورپ کے لوگ باوجود مشینوں اور بارود وغیرہ کی کثرت کے اتنے بڑے بڑے غار بناتے ہیں۔بڑی بڑی جدوجہد اور کوشش سے کام لیتے ہیں۔تب کہیں کامیاب ہو سکتے ہیں۔لیکن دریا اپنا پورا زور لگاتے ہیں۔اور جتنا کاٹ سکتے ہیں کاٹتے ہیں۔اور غاریں بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔پس دونوں نکتوں کو یاد رکھو کہ بعض لوگ جلدی مان لینے والے ہوتے ہیں۔اور بعض بہت دیر میں اگر ایک جلدی مانتا ہے اس لئے سب کے متعلق یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ وہ بھی جلدی مان لیں گے اور اگر ایک دیر میں مانے والا ہے تو سب کے متعلق یہ نہیں خیال کر لینا چاہیے کہ وہ دیر ہی سے مانیں گے۔تبلیغ میں دونوں قسم کے لوگوں کی حالت کو مد نظر رکھو کہ تبلیغ جلدی اور مناسب طریق پر کرو۔جس نے جلدی ماننا ہے وہ جلدی مان لے گا۔اور جو جلدی نہیں مانتا۔اس کے متعلق مایوس مت ہو۔لگے رہو۔آخر وہ مان لے گا۔مایوس ہونے کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ تمہیں علم ہو کہ اس نے محروم ہی مرنا ہے۔اور اس علم کا ذریعہ خدا کا الہام اور وحی ہو سکتی ہے۔لیکن تمہیں جب الہام اور وحی نہیں ہوئی ہے تو پھر مایوس مت ہو۔اور تبلیغ میں لگے رہو۔ایک دن میں دو دن میں سال میں دو سال میں مان لینا ضروری نہیں۔تم یہ خیال رکھو کہ آخر مانے گا۔ممکن ہے کہ اس نے بہت لمبے عرصہ کے بعد ماننا ہو۔اور تم لمبے عرصہ کی تبلیغ سے گھبرا کر چھوڑ دو۔حالانکہ جس دن اس کو تبلیغ کرنا چھوڑو وہی وقت اس کے حق قبول کرنے کا وقت ہو۔اس حالت میں تمہارا تبلیغ چھوڑنے کا نتیجہ اس کی محرومی اور تمہاری ناکامی ہوگا۔پس دونوں باتوں کو مد نظر رکھو۔تبلیغ میں سستی نہ کرو۔اور لوگوں سے مایوس مت ہو۔پھر اللہ تعالیٰ تمہاری تبلیغ میں برکت ڈالے گا۔اور اس سے تمہارا وہ فرض ادا ہو گا۔جو تمہارے ذمہ تھا۔