خطبات محمود (جلد 7) — Page 34
۳۴ کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو سب کو جمع کیا۔اور پوچھا کیا کسی نے یہ کہا ہے۔صحابہ کچے انسان تھے۔انہوں نے اس کا انکار نہ کیا۔لیکن ساتھ یہ کہا۔کہ ایک جاہل اور نادان نے یہ بات کہی ہے۔اور اب وہ شرمندہ ہے۔آپ اس کا کوئی خیال نہ فرما دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے انصار ایک بات تھی جو نکل گئی۔تم اگر چاہو تو کہہ سکتے ہو۔کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وطن والے مارتے اور دکھ دیتے تھے۔اس وقت ہم گئے اور تم کو اپنے گھر لے آئے۔اور ہمارے ذریعہ تمہیں عزت حاصل ہوئی۔مگر تم ایک اور بات بھی کہہ سکتے تھے۔اور وہ یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تو مکہ میں پیدا ہوئے مگر مکہ والے تو اونٹ اور مال لے گئے۔اور انصار اس کو اپنے گھر لے گئے۔فی الواقع میں عظیم الشان نعمت تھی۔جو انصار کو حاصل ہوئی۔انصار نے بڑی معذرت کی۔اور کہا مال و دولت کیا چیز ہے۔ہمیں سب سے بڑی نعمت حاصل ہے۔در حقیقت مال و دولت کچھ بھی حقیقت نہ رکھتا تھا۔مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہی فتح کیا تھا مدینہ والے تو پہلے بھی تھے۔وہ کیوں نہ مکہ فتح کر سکے۔مکہ آپ ہی کے ذریعہ فتح ہوا تھا۔پھر ہو سکتا تھا کہ جب رسول کریم کا اپنا شہر فتح ہو گیا تھا تو آپ اسی جگہ رہتے۔کیونکہ یہ شہر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بسایا ہوا آپ کے باپ دادا کا وطن تھا۔اور کس کو اپنے وطن سے محبت نہیں ہوتی۔مگر رسول کریم نے کہا وفاداری یہی ہے۔کہ مدینہ والوں نے جب تکلیف اور مشکلات کے وقت میرا ساتھ دیا۔تو میں بھی اب انہی کے ساتھ ہونگا۔اس سے بڑھ کر مدینہ والوں کے لئے اور کیا نعمت ہو سکتی تھی۔اس وقت دنیا بڑے بڑے منصوبے کر رہی ہے اور لوگ کہہ رہے ہیں ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے۔ہم کہتے ہیں اگر تم کامیاب بھی ہو گئے تو دنیا کا مال و دولت ہی حاصل کرو گے۔حالانکہ جس طریق پر چل رہے ہو یہ بھی نہیں ملے گی اور تباہی کا سامنا ہو گا مگر ہم کہتے ہیں کہ اگر تم اس میں کامیاب بھی ہو جاؤ۔تو ہمیں ناکام نہیں کر رہے بلکہ ہمارے لئے چاروں طرف سے دروازے بند کر کے ہمیں اس ہستی کی طرف لے جارہے ہو جس سے بہتر کوئی اور نہیں ہے۔اس وقت میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے۔اور جو حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ان کی قدر کرے۔اور اپنے ایمان کو جس کی وجہ سے فضل نازل ہو رہے ہیں اور پڑھائے۔یاد رکھو دنیا کی چیزیں اگر کافی طور پر نہ بھی میں تو کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر خدا نہ ملے۔تو کچھ بھی نہیں۔سب کچھ بیچ ہے۔جب خدا مل جائے۔تو دنیا کی سب چیزیں مل جاتی ہیں۔مگر ان کا خیال