خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 386

PAY ٹیکس دیتے ہیں پھر اپنے کارخانوں میں یہاں کی نسبت زیادہ اجرت دے کر بڑے مصارف کے بعد کپڑے تیار کر کے یہاں لاتے ہیں اور پھر اپنے مصارف کثیرہ کے بعد یہاں کپڑے کو اتنا سستا بیچتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں اتنا ستا تیار نہیں ہو سکتا۔اس میں یہی راز ہے کہ وہ لوگ تجارت کے کاروبار سے واقف ہو گئے ہیں۔بالآخر میں کہتا ہوں کہ دین اور دنیا میں جو مراتب ہیں ان کو ملحوظ رکھنا چاہئیے دنیا کی طرف توجہ کرنی چاہئیے مگر اس قدر نہیں کہ دنیا کی خاطر دین بھی تباہ ہو جائے اور دنیا ہی دنیا انسان کے دل پر مستولی ہو جائے۔بغیر تحقیقات کے میں ان لوگوں کو خائن نہیں کہہ سکتا جب تحقیقات ہو تو اگر کسی کا جرم ثابت ہو اس کو سزا دی جائے۔ہاں میں نے اگر ان کو دیانت دار کہا اور وہ تحقیقات کے بعد بد دیانت ثابت ہوں تو اس سے زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہو گا کہ میری رائے صحیح نہ تھی اور میں عالم الغیب نہ تھا۔اور یہ بات میرے درجہ کے کم کرنے والی نہیں میرے آقا اور میرے سردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی جو بشریت تھی وہ مجھ میں کیوں نہ ہو مجھ میں تو ان سے لاکھوں گنے زیادہ ہونی چاہئیے اس خط کے مضمون میں اس قسم کے اشارات ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ وہ خط قادیان کا نہیں ہے تو کم از کم قادیان سے یہ خیالات پہنچائے گئے ہیں۔یہ ایک کمزوری کی بات ہے دین و دنیا میں فرق کرو۔یہ سچ ہے کہ نقصان ہو تو عقل ٹھکانے نہیں رہتی۔لیکن ایسا نہ ہو کہ دنیا کی خاطر دین ضائع کردو۔اللہ تعالیٰ دین و دنیا کے فرق کو سمجھنے کی توفیق دے۔یاد رکھو کہ ہر ایک کام خیانت اور شرارت سے ہی خراب نہیں ہوا کرتا۔بہت سے کام محض ناواقفی اور قوانین کے نقص یا بے احتیاطی سے بھی خراب ہو جاتے ہیں۔تجارت ہی میں کئی کروڑ پتی ایسے بھی ہوئے ہیں کہ کھانا پڑا اور روٹی کے محتاج ہو گئے حالات بدلنے سے لوگوں کی حالت متغیر ہو جاتی ہے جرمن کے ایک شخص نے اشتہار دیا کہ مجھے ایک عام کام کرنے والی عورت کی ضرورت ہے بہت سے درخواستیں آئیں ان میں ایک شہزادی کی بھی درخواست تھی۔اس نے کون سے سٹور میں روپیہ ڈالا تھا۔اور اس میں کس نے خیانت کی تھی؟ پس یہ گھاٹا شامت اعمال سے ہے اور اس شخص کو یا ایسے اشخاص کو جن کا ایمان گھاٹے کی وجہ سے متزلزل ہو استغفار کرنا چاہئیے اور خدا کے حضور جھکنا چاہیے اور وہ طریق نہ اختیار کرنا چاہیے کہ جس سے دین کا بھی نقصان ہو۔بلکہ اس واقعہ سے سبق لیکر وہ رویہ اختیار کرنا چاہئیے کہ آئندہ نقصان نہ ہو۔الفضل ۲۳ نومبر ۱۹۲۳ء)