خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 317

۳۱۷ 58 مذہب کی غرض سمجھنے کی کوشش کریں (فرموده ۷ جولائی ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں مختلف مذاہب نظر آتے ہیں۔بڑے بڑے مذاہب چار پانچ سمجھو۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہزاروں مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں۔مثلاً ہم میں سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ہندو مذہب کو ایک مذہب قرار دیتے ہیں۔حالانکہ وہ ایک نہیں ہے۔ہندو مذہب کے معنی یہ تھے کہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے مذاہب میں سے کوئی ایک مذہب۔اور ہندوستان میں سینکڑوں مذاہب پائے جاتے ہیں۔وہ سب ایک مذہب کی شاخیں نہیں۔بلکہ مستقل مذاہب ہیں۔جن کے عقائد عبادات اور کتب بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔بے شک ایسے بھی ہیں جو ویدوں کو خدا کا کلام مانتے ہیں۔اور ہم بھی مانتے ہیں کہ دید خدا کا کلام تھے۔لیکن ایسے بھی ہیں جو دید کے مقابلہ میں اور کتاب کو مانتے ہیں۔کئی ہیں جو ویدوں کو نہیں مانتے۔بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ان کے لئے ہدایت نامے اور ہیں جن کو وہ مانتے اور ان کی اتباع کرتے ہیں۔چین میں بھی مذاہب ہیں۔جاپان میں ہیں۔اور افریقہ میں سینکڑوں مذاہب ہیں۔جن میں خدا کے نام الگ۔عبادت کے طریق الگ الگ ہیں۔خواہ وہ کتنے ہی ادنی خیال کے ہوں۔مگر ان کا وجود ضرور ہے۔یورپ اور امریکہ میں بھی مذاہب کی کثرت ہے۔عیسائیت مختلف مذاہب کا مجموعہ ہے مثلاً دو مختلف باتیں ایک مذہب میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ایک گروہ کہتا ہے کہ مسیح انسان ہے۔اور دوسرا کہتا ہے کہ نہیں وہ خدا ہے۔لیکن یہ دونوں عیسائی کہلاتے ہیں۔ایک وہ ہیں جو تورات کی شریعت کے پابند ہیں۔اور ایک وہ ہیں جو شریعت کو لعنت قرار دیتے ہیں۔یہ دو مختلف مذاہب ہیں۔مگر نام ان کا عیسائی ہے۔تو دنیا میں ہزاروں مذاہب ہیں یورپ والوں نے ایک کتاب انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجنز لکھی ہے جس میں انہوں نے ہزاروں مذہب گنوائے ہیں۔ان مذاہب میں اتنا اختلاف ہے کہ ایک مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے لوگوں کی ترقی کو پسند نہیں کرتے۔مسلمان ہندوؤں کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔اور ہندو مسلمانوں کی ترقی نہیں