خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 308

اصل کو نہیں سمجھتے۔وہ اپنی اس بات کو خلاف دیانت نہیں سمجھتے۔کہ بازار میں ایک چیز جو ستی بکتی ہو۔اس سے ایک شخص اس دلیل کی بنا پر مہنگا نیچے کہ یہ میری چیز ہے میں جس قیمت پر چاہوں بچوں۔اور اس طرح زیادہ قیمت لینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔مگر ان کا یہ کہنا اس وقت تک غلط ہے جب تک کہ خریداروں پر روکیں لگائی گئی ہیں اور اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو یہ اس کی بددیانتی ہے۔اگر زید کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ بکر سے سودا نہ لے۔بلکہ خالد سے لے۔اور خالد بکر کی نسبت مال کی قیمت بڑھاتا ہے اور زید اس سے لینے پر مجبور ہے تو اس کی مجبوری سے اس کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے اور وہ نہیں کہہ سکتا کہ میری چیز ہے جس طرح چاہوں بچوں۔اس کا ایسا کہنا غلط ہے۔اس کو منڈی کے نرخ کا خیال رکھنا چاہئیے۔دیکھو اگر کسی شخص کے پاس کچھ روٹیاں ہوں اور ایک سائل اس سے مانگنے آئے تو یہ اس کا حق نہیں کہ وہ اس کو کہے کہ میں نہیں دیتا تو جب فقیر جو ایک پیسہ بھی نہیں دیتا اس کو روٹی نہ دینا غلطی اور ظلم ہے۔تو جو شخص قیمتاً " ایک چیز لیتا ہے اور دوکاندار اس کو منڈی کے نرخ پر نہیں دیتا وہ بھی ظالم ہے۔اگر کوئی شخص منڈی کے نرخ سے گراں نرخ رکھتا ہے تو یہ بد دیانتی کرتا ہے۔اور لوگوں کی مجبوری اور ناواقفی سے فائدہ اٹھاتا ہے ہاں اگر کوئی دکاندار ایسا اعلان کردے۔اور بورڈ پر لکھ کر لگا دے کہ میں دو پیسہ میں امرتسر سے چیز خریدتا ہوں اور یہاں ایک آنے میں بازار میں بکتی ہے مگر میں دو آنے میں بیچتا ہوں۔اور پھر گاہک اس کی دکان پر جائیں اور اس سے خریدیں تو اس کا حق ہو سکتا ہے لیکن لوگ عام طور پر چونکہ بھاؤ سے واقف نہیں ہوتے۔اس لئے ان کی ناواقفیت کی وجہ سے ان سے زیادہ قیمت لی جاتی ہے۔اور یہ بد دیانتی ہے۔اور یہ بددیانتی اپنی غلطی اور نادا قفی کی وجہ سے کی جاتی ہے۔اور اپنی غلطی کا اثر دوسروں پر ڈالا جاتا ہے کہ ہم نے مہنگی خریدی ہے۔اس لئے مہنگی بیچتے ہیں۔حالانکہ اس کا خمیازہ ان کو خود بھگتنا چاہیئے۔جو لوگ یہ طریق جاری رکھتے ہیں نہ ان کی تجارت کامیاب ہوتی ہے نہ ان کو تجارت کا علم آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کوئی دوکان اچھی حالت میں نہیں ہے۔لوگ محنت نہیں کرتے۔اور تجارت کا علم حاصل نہیں کرتے۔اور ناجائز وسائل سے اپنی دوکان چلانا چاہتے ہیں ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ روک جو سودے سلف کے متعلق ہے قائم رہے اور جو چیز ایک لاتا ہے وہ دوسرا نہ لادے۔مگر خود محنت نہیں کرتے۔یہ ناجائز یا وقتی حفاظت کے طریق ہیں۔اگر صحیح ذرائع پر عمل کریں تو ان ذرائع کو اختیار کرنے کی ان کو ضرورت نہ رہے۔اور ان کی یہ خواہش نہ ہو کہ یہ روک قائم رہے۔کیونکہ یہ بھی عارضی ہے۔اگر آج حالات بدل جائیں۔تو وہ روک قائم نہیں رہ