خطبات محمود (جلد 7) — Page 297
۲۹۷ ہو جاتا۔یا مکان بناتا ہے تو اس کی حفاظت کی فکر رکھتا ہے۔غرض ایک درخت لگانے والا اپنے درخت کی زمیندار اپنے کھیت کی دکاندار اپنی دکان کی مکان تعمیر کرنے والا اپنے مکان اور اس کے فرنیچر کی حفاظت کرتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں اس کی حفاظت نہیں کروں گا تو میرا لاکھوں روپیہ تباہ ہو جائے گا۔اور دکاندار خیال کرے گا کہ اگر میں اپنی دکان کی حفاظت نہیں کروں گا تو میرے ہزاروں روپیہ برباد ہو جائیں گے۔کیونکہ نقصان پہنچانے والے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔اور ہر چیز کو کئی طریق سے نقصان پہنچاتے ہیں۔مثلاً بعض لوگوں کو بگاڑنے کی عادت ہوتی ہے۔اور اس میں انکا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوتا۔مثلاً ہمارا یہ منارہ ہے۔اس کے اندر اور باہر لکیریں کھینچ دی گئی ہیں حالانکہ لکیریں کھینچنے والوں کا اس میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔مگر منارے کی خوبصورتی میں اس سے فرق آگیا ہے۔اور میں تمہیں ہزار روپیہ جو اس پر خرچ ہو ا ہے اس میں سے ایک معقول رقم اس کے خوبصورت بنانے میں بھی صرف کی گئی ہے۔نمر ایسے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ کوئی محافظ نہیں ہے تو یونہی لکیریں کھینچنے حتی کی پلستر بھی کھرچنے لگ جاتے ہیں بعض لوگ عداوت سے دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔خواہ اس میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہو مثلاً کھیت پک جاتا ہے۔زمیندار تمام فصل کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔اور بہت خوش ہوتا ہے۔مگر ایک بدطینت شخص آتا ہے اور اس کے کھلیان میں آگ لگا دیتا ہے۔اگر جل جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اور اگر بچ جائے تو بھی زیادہ حصہ کسی کام کا نہیں ہوتا۔تو بہت سے لوگ عداوت یا عادت کے طور پر دوسرے کی چیز کو خراب کرتے ہیں۔اور اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔بہت سی چیزوں کو بعض چیزوں سے نفرت ہوتی ہے چیز والوں سے نفرت یا عداوت نہیں ہوتی۔مثلاً ایک خاص قسم کے کپڑے جو کپاس کو لگتے ہیں ان کو ہرگز کپاس والوں سے عداوت نہیں ہوتی۔مگر کپاس کے پودے سے نفرت ہوتی ہے۔جہاں کپاس پیدا ہوگی۔وہ اس کو خراب کرنے کے درپے ہو نگے پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو نہ تو کسی ایک چیز سے نہ اس کے مالک سے عداوت ہوتی ہے نہ نفرت مگر اتفاقی طور پر اس کو ان سے نقصان پہنچ جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص اپنے دشمن کو اپنے پیچھے دوڑتے دیکھ کر اپنی جان کی حفاظت کے لئے دوڑتا ہے اور ایک کھیت میں سے گذرتا ہے۔گونہ اس کی نیت ہے نہ ارادہ کہ اس کھیت کو نقصان پہنچے۔مگر نقصان پہنچانے کے خیال سے نہیں بلکہ اپنے فائدہ کے لئے ایک کام کرتا ہے مگر دوسرے کو اتنا ہی نقصان پہنچ جاتا ہے جتنا اس کو فائدہ۔مثلاً چور چوری کرتا ہے۔اس کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ گھر والے کو نقصان پہنچائے۔اس کو صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا مقصود ہے۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں اس کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ گھر والوں کو نقصان ضرور پہنچ جاتا ہے۔تو بعض عداوت سے دوسرے کو نقصان