خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 232

۲۳۳ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں حالتوں کے متعلق یہی رکھا ہے۔مگر بہت لوگ ہیں۔جو رسول کے لفظ سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔کہ آپ تو رسول تھے۔آپ کا فرض تھا کہ اس طرح کرتے بعض لوگ کہتے ہیں۔یہ پیروں اور صوفیوں کا کام ہے۔ہمارا کام نہیں۔اور ہماری جماعت کے لوگ سمجھتے ہیں یہ خلیفہ کا کام ہے۔حالانکہ نظیفہ کا کام کے یہ معنی ہیں کہ خلیفہ کام کو ایک انتظام میں لائے نہ یہ کہ سب اسی کا کام ہے۔اور باقی سب لوگ آزاد ہیں۔دیکھو ایک گھر میں خاوند بیوی بچے ہوتے ہیں لیکن خاوند کے خاوند کہلانے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ باقی گھر کے سب آدمی کام چھوڑ بیٹھیں اور سارے کام خاوند کو کرنے پڑیں۔بلکہ بیوی بچے بھی گھر کے کاموں کے ذمہ وار ہوتے ہیں۔تمام گھروں میں یہ تسلیم شدہ امر ہے۔اور کوئی یہ نہیں مانے گا کہ میں خاوند ہوں اس لئے سب کام کرنا میرا ہی فرض ہے۔بلکہ عام طور پر تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ زیادہ تر کام بیوی بچوں سے کراتے ہیں۔اور اپنے آپ کو حاکم سمجھتے ہیں۔مگر دین کے معاملہ میں کہتے ہی کہ سب خلیفہ کا کام ہے۔ہمیں کام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔گویا بالکل الٹ نقشہ ہے۔کیا خاوند کے ہاتھ میں گھر کی حکومت آنے سے گھر کے دوسرے لوگوں کا کام بند ہو جاتا ہے۔اس کے تو یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ سب کے کام تقسیم کر دے۔اور اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے تنبیہ کرے۔اسی طرح خلیفہ کے تعین سے اللہ کا یہ منشاء نہیں کہ سب کو آزاد کر کے سب کام اس کے ذمہ لگا دئے جائیں۔بلکہ یہ ہے کہ وہ کام تقسیم کرے اور اس کی نگرانی کرے۔لوگ پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم میں یہ کیوں آیا ہے کہ اللہ تم کو خلیفہ مقرر کرے گا۔اس سے بعض نادانی سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ایک خلیفہ کی ضرورت نہیں۔انجمن ہونی چاہئیے اور بعض کہتے ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم خلیفہ مقرر کریں گے۔اور باری باری مقرر کریں گے۔مگر یہ دونوں معنی غلط ہیں۔صحیح معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی خلیفہ مقرر ہوتا ہے۔پھر اور مقرر ہوتا ہے۔پھر اور اس لئے جمع کا لفظ آیا ہے پھر اس لحاظ سے جمع کا صیغہ آیا ہے کہ جو بندہ دنیا میں موجود ہے۔اور خدا کا بندہ کہلاتا ہے وہ خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔اس کا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام دنیا میں جاری کرے۔اور دوسروں تک پہنچائے۔اس لحاظ سے ہر مومن خلیفہ ہے۔اور جسے خدا مقرر کرتا ہے۔وہ الگ خلیفہ ہے۔پس خدا تعالیٰ کے احکام جاری اور قائم کرنے کے لئے ہر ایک ومن خلیفہ ہے۔اور جب تک ہماری جماعت کا ہر ایک فرد یہ نہ سمجھے کہ وہ خلیفہ ہے۔اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔جب تک لوگوں میں یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ بعض پر کام چھوڑ کر آپ غافل بیٹھ رہتے ہیں۔اس وقت تک ان کے تباہ و برباد ہونے میں کوئی شک نہیں۔لیکن جب یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ ہر ایک سمجھ لے یہ میرا ہی کام ہے۔تو اس وقت ایسی قوت اور طاقت پیدا ہو