خطبات محمود (جلد 7) — Page 219
۲۱۹ نہیں سمجھے۔وہ جس کو دیانت کہتے ہیں وہ بد دیانتی ہوتی ہے۔جب وہ مفہوم ہی نہیں سمجھتے۔تو ان میں یہ صفات کب پیدا ہونگے۔تو اخلاق کی درستی ہی ایک ایسی چیز ہے۔جس سے دنیا تمہاری حالت کو سمجھ سکتی ہے۔اگر یہ نہ ہو۔تو ایمان کی کوئی نشانی نہیں۔تم لاکھ دلیلیں دو۔اگر معالمہ اچھا نہیں تو کوئی اثر نہ ہو گا۔مخالف خیال کرے گا اگر ہمارا پنڈت یا پادری ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی بولتا۔لیکن اگر تمہاری اخلاقی حالت درست ہوگی تو ان کی آنکھ کھل جائے گی۔وہ دیکھیں گے کہ یہ بات ان پنڈتوں پادریوں میں نہیں۔ہم جو باتیں بیان کریں گے ان پر اثر نہ ہوگا۔ہم جو قرآن کریم کی خوبیاں بیان کریں گے دوسرے ان کو لیکر اپنی کتابوں کی طرف منسوب کر دیں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو خوبیاں قرآن کریم کی بیان فرمائی ہیں۔دوسرے اگر چرا کر اپنی کتابوں کی طرف منسوب کریں گے تو کے لوگ اس کی تحقیقات نہیں کر سکتے۔کیونکہ ان کے پاس قول تو ہوگا قول پر فعل شاہد نہ ہو گا۔میں اپنے احباب کو خاص توجہ دلاتا ہوں کہ اخلاق کو درست کرد۔میرا منشاء ہے۔کہ جس طرح پچھلے دنوں یہاں کے کام کے متعلق سلسلہ مضامین بیان ہوا تھا۔کسی وقت اخلاق کے متعلق بھی بیان کروں۔جس سے سہل طریق پر اخلاقی باتیں سمجھ میں آجائیں۔پہلا قدم اخلاق کی مضبوطی ہے۔خدا کے راہ میں گو سینکڑوں قدم ہیں۔مگر اس راستہ میں یہ عجیب بات ہے۔کہ جب پہلا قدم صحیح طور پر اٹھایا جائے۔تو تمام راستہ آسان ہو جاتا ہے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایسی گاڑی میں سوار ہو گئے کہ تمام راستہ آسانی سے طے ہو گیا۔اس میں نیت کی شرط ہے۔نیت ٹھیک ہو تو جس طرح قصوں میں آتا ہے کہ جادو کی چابی سے سب دروازے خود بخود کھل جاتے تھے۔اسی طرح تمام رو کیں دور ہو کر منزل طے ہو جاتی ہے۔دیانت سے کام لیں اور نیت صاف کریں۔جب یہ حالت پیدا ہو جائے گی۔پھر نا ممکن باتیں ممکن ہو جائیں گی اور انسان حیران ہو گا کہ کیسے یہ تغیر آگیا۔لوگ ڈرتے ہیں کہ کیسے ہو گا۔مگر جب کرتے ہیں۔تو کچھ وقت معلوم نہیں ہوتی۔اس کی مثال روئی کے ڈھیر کی طرح ہے ناواقف سمجھے گا کہ اس ڈھیر کو کون اٹھائے گا۔مگر جب اٹھاتا ہے تو آسانی سے اٹھا لیتا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی کا حق نہ ماریں۔تو گزارہ کیسے ہو۔دعا نہ کریں۔تو دشمن پر کامیابی کیسے۔مگر جب حق کی رعایت کریں گے۔دعا و بد دیانتی کو چھوڑیں گے تو معلوم ہوگا کہ دل کی اصل راحت تو اسی میں تھی اور سچ میں ہی ان کو مزہ آئے گا۔اور دل کو تسکین حاصل ہوگی۔اگر لوگ توجہ کریں۔تو چھوڑنا مشکل نہیں۔مگر باپ دادوں سے یہ سنتے آئے ہیں۔اس لئے ان خیالات سے ڈر لگتا ہے۔مگر کیا احمدی جماعت سے یہ امید نہیں رکھی جائے گی کہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے یہ نیت کرلے کہ جھوٹ نہ بولیں گے۔جھوٹ کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ بولا جائے تجربہ کر لو