خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 14

ہیں اور ہمت نہیں ہارتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے مقصد کو ضرور پالیتے ہیں کئی ہوتے ہیں جو اپنے مقصد اور مدعا کے حصول میں یوسف کے بھائیوں کی طرح مشکلات سے گھبرا کر بیٹھ جاتے ہیں۔اور کئی ہوتے ہیں جو یعقوب کی طرح مایوسی سے بیچ کر کام کرتے ہیں اور مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں اور آخر کامیاب ہو جاتے ہیں۔میں یہ نظارہ روز دیکھتا ہوں کہ لوگ تھوڑی تھوڑی ناکامی پر مایوسی ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔وہ کسی کو نصیحت کرتے ہیں اور وہ نہیں مانتا تو مایوس ہو کر اس کو نصیحت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔میں نے بہتوں کو دیکھا ہے کہ اگر کامیابی کے رستہ میں ذرا سی بھی مشکل آجائے تو وہ ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔حالانکہ بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان پر کسی نصیحت کا اثر دیر میں ہوتا ہے ہدایت ہی کو دیکھو۔بعض لوگ مخالف ہوتے ہیں اور شدید مخالف مگر آخر وہ مان لیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی عمرو ابن العاص کا واقعہ ہے جو بہت بڑے اسلامی جرنیل تھے۔وہ انیس سال تک آنحضرت کے سخت مخالف رہے۔وہ خود بیان کرتے ہیں کہ مخالفت کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قابل نفرت انسان مجھے اور کوئی معلوم نہیں ہو تا تھا۔مگر جب میں مسلمان ہوا تو میری یہ حالت ہوئی اور آپ کی محبت میرے دل میں اتنی پیدا ہوئی اور آپ کو جو خداداد حسن ملا تھا اس کا مجھ پر اتنا رعب پڑا کہ میں مسلمان ہونے کے بعد کبھی آنکھ اٹھا کر آپ کو نہیں دیکھ سکا۔اب اگر آپ کا حلیہ کوئی شخص مجھ سے دریافت کرے تو میں نہیں بیان کر ской اگر ہم لوگوں میں تلاش کیا جائے۔تو کم لوگ موجود ہونگے جنہوں نے ۱۸۹ء میں حضرت اقدس کی بیعت کی ہوگی۔پھر ان سے زیادہ وہ ہونگے جنہوں نے ۱۸۹۲ء میں بیعت کی ہوگی۔پھر اسی طرح اور وہ بہت ہونگے جنہوں نے خلیفہ اول کے وقت میں بیعت کی۔اور اسی طرح میرے وقت میں۔اگر ان سے دریافت کیا جائے تو بہت سے بتائیں گے کہ وہ بیعت کرنے سے پہلے احمدیت کے سخت دشمن تھے۔اور احمدیت کے مٹانے کے درپے رہتے تھے۔اب اگر وہ لوگ جو ایسے لوگوں کو سمجھانے کے پیچھے پڑے رہے ان کی اس مخالفت کو دیکھتے اور ہمت ہار بیٹھتے تو کیا یہ لوگ سلسلہ میں داخل ہو جاتے۔مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ان کے پیچھے لگے رہے آخر انہوں نے ہدایت پائی۔اسی طرح دوسرے کاموں میں بھی ہوتا ہے۔ایک زمانہ ہندوستان میں مسلمانوں پر ایسا تھا۔کہ انگریزی پڑھنا کفر خیال کیا جاتا تھا۔لیکن پھر ایسا تغیر آیا کہ جو انگریزی نہ پڑھتے تھے۔ان کو "قل اعوزئے۔”دقیانوسی" اور دو ہزار سال پہلے کے " وغیرہ۔اس قسم کے بیسیوں نام دیئے جاتے