خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 13

یہ کرے آتے ہیں ہم جو کہتے ہیں کہ بعد انہاں مردہ زندہ نہیں کرتا تو اس کے محض نیا سنتے ہیں کہ خدا ؟ کہتا ہے کہ وہ یہاں مردہ زندہ نہیں کرتا والا اگر اس کا عہد نہ ہوتا اور وہی یہ بات نہ کستان تو ہم کبھی نہ کہتے کہ وہ مرد کے زندہ نہیں کرتا۔ پس خدا کو مانتے ہوئے کسی بات کی نسبت کہنا کہ نا ممکن ہے درست نہیں۔ یعقوب علیہ السلام کا قول نقل فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ خدا کی رحمت سے نامید نہیں ہوتا مگر کافر جب تک سنت اللہ کے خلاف نہ ہو کسی بات کو نا ممکن کہنا سراسر غلطی ہے۔ یہ واقعہ تھا جو گزر گیا۔ لیکن محمد الی کتاب قصہ کی کتاب نہیں ۔ بلکہ انسانوں کی ہدایت کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ یوسف کا واقعہ بیان فرمایا ہے ۔ جس طرح یہ تمام واقعہ مجموعی صورت میں انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔ اسی طرح یہ آیت جو اس تمام سورہ کا ایک کوا ہے بھی ہدایت ہے۔۔ جس طرح تمام قرآن بھی ہدایت ہے اسی طرح اس کی ہر ایک سورہ بھی ہدایت ہے۔ ہر ایک سورہ کا ہر ایک رکوع اور ہر ایک رکوع کی ہر ایک آیت اور ہر ایک بیت کا ہر ایک لفظ بھی ہدایت ہے۔ اور یہ مختلف سلسلہ ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک مسلسلہ ہر اسد الدرام آیت جو میں سے اب پڑھی ہے یوسف علیہ السلام کے واقعہ کی ایک شائع ہے۔ اور ہدایت ہے۔ اور یہ تمام واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیشگوئی کے ہے۔ اور ابو اسما عیل کو ان کے چا کی اولاد کا ایک واقعہ یاد دلایا ہے۔ کہ تمہارا بھی ایک یوسف ہے جس کو تم کھوارا ہے ہو ۔ اور وطن سے نکال رہے ہو۔ اس لئے ان کو ان کے بچا یعقوب کی نصیحت یاد دلائی کو جاؤ اور تم بھی اس یوسف کی تلاش کرو۔ اگرچہ تمہاری شرارت سے یوسف گم ہو گیا مگر جب تم اس کو تلاش کرو گئے تو اس کو پا لو گے۔ چنانچہ مکہ والوں نے جب اس یوسف کو تلاش کیا تو اس کو پالیا۔ اپنی یہ یوسف کا تمام واقعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جہاں ں ہوتا ہے۔ مگر یہ آیت اپنی ذات میں حکمت ہے اور ہدایت ہے۔ یعقوب کا یوسف گم ہو گیا تھا۔ یعقوب بیٹوں کو کہتا ہے کہ تم اس کی تلاش میں گبھرا مت جانا۔ ایسے ہی ہر انسان کا بھی ایک یوسف ہوتا ہے۔ اور ہر ایک شخص کا جو مدعا ہوتا ہے وہی اس کا یوسف ہوتا ہے۔ یوسف کیا تھا یعقوب کا پیارا تھا۔ ہر کام جو انسان کرتا ہے وہ اس کا یوسف ہوتا ہے۔ جب اس کام میں مشکلات آجاتے ہیں۔ اور مقصد دور ہو جاتا ہے۔ تو گویا وہ یوسف گم ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ شخص ان مشکلات سے گھبرا کر کام چھوڑتا ہے تو وہ یوسف کو پانے سے محروم رہتا ہے۔ اور اگر وہ گھبراتا نہیں تلاش و جستجو اور کوشش جاری رکھتا ہے۔ تو اس کا یوسف مل جاتا ہے اور اس کا وہ کام ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دعا کو پا لیتا ہے۔ ر کام کرانے میں بہت سے شخص یوسف کے بھائیوں کی طرح مایوس ہو کر ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ وہ اپنے مقصد کو نہیں پاسکتے۔ مگر جو یعقوب صفت لوگ ہوتے ہیں۔ وہ آخر دم تک کوشش جاری رکھتے