خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 168

۱۶۸ جتنا کوئی اس کا نام بلند کرتا ہے خدا اس سے زیادہ اس کا نام بلند کر دیتا ہے۔ تاکہ خدا تعالیٰ کا احسان اپنے بندہ پر رہے۔ بندہ کا خدا پر نہ رہے۔ تو سابقون کا خدا تعالیٰ نے ایک حق رکھا ہے۔ وہ خواہ دوسروں کی نسبت کام کے لحاظ سے اونی بھی ہوں۔ تو بھی خدا نے ان کا حق مقرر کیا ہے۔ تاکہ خدا پر ان کا احسان نہ رہے۔ اس لحاظ اور حق کے متعلق دونوں قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔ یعنی ایک یہ کہ جہاں برابر کا مقابلہ ہو وہاں سابقون کو ترجیح دی گئی ہے۔ اور دوسرے جہاں برابری نہیں بلکہ سابق اونی اور دوسرے اعلیٰ ہوں۔ وہاں بھی سابق کو ہی ترجیح دی گئی ہے۔ اور یہ دونوں مثالیں ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جن کے اعمال کے اعلیٰ ہونے کو مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ اور دو مثالیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی ملتی ہیں۔ حضرت ایک دفعہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکر کی لڑائی ہو گئی۔ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ حضرت ابو بکڑ کو خیال آیا میں ہی در گذر کر دیتا تو بات نہ بڑھتی۔ چلو اب میں معافی مانگ کر صفائی کر لیتا ہوں۔ اس پر انہوں نے حضرت عمر سے معافی مانگی۔ حضرت عمر اس وقت غصہ میں تھے انہوں نے معافی نہ دی۔ رت ابو بکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اور اور آکر عرض کی کہ عمر سے میرا جھگڑا ہو گیا ہے۔ اور میں اپنا قصور تسلیم کرتا ہوں۔ مگر عمر مجھے معاف نہیں کرتے۔ حالانکہ واقعہ کو دیکھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قصور نہ تھا۔ زیادتی حضرت عمر کی تھی مگر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی کہا کہ میرا قصور ہے جس کی میں معافی مانگتا ہوں مگر عمر مجھے معاف نہیں کرتے۔ اب دیکھو حضرت ابو با ابو بکر کہتے ہیں میری غلطی ہے۔ اس طرح گویا سابق (ابوبکر) نیچے ہے اور دوسرا ( عمر ) اوپر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم الغیب نہیں کہ آپ باوجود حضرت ابو بکر کے اقرار کے کہ غلطی ان کی ہے۔ حضرت عمرؓ کی غلطی سمجھتے۔ لیکن جب حضرت عمر آئے تو کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے ایسا تمتما رہا تھا کہ جیسا کبھی کم دیکھنے میں آیا ہے۔ اور آپ نے حضرت عمرؓ کو دیکھتے ہی فرمایا۔ تم کو کیا ہو گیا ہے۔ مجھے اور ابو بکڑ کو نہیں چھوڑتے۔ حالانکہ ابو بکر وہ ہے کہ جب تم خدا کی باتوں کا انکار کر رہے تھے تو یہ تصدیق کر رہا تھا ۔ یہ سابق کے متعلق رسول کریم کا فیصلہ ہے کہ اگر ان کی غلطی بھی تھی تو بھی حضرت عمر کا یہ کام تھا کہ معافی مانگتے۔ نہ کہ معافی مانگنے پر بھی معاف نہ کرتے اس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ رسول کریم نے حضرت عمر کے مقابلہ میں حضرت ابوبکر کا حق تسلیم کیا ہے۔ اور ایسا ہونا ضروری بھی ہے۔ کیونکہ سابقون دین کے عمود ہوتے ہیں ان کا حق مٹنے سے دین کی ہتک ہوتی ہے۔ ان کا کام دوسروں تک خدا تعالیٰ کا کلام پہنچانا اور دین کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اور دوسرے ان کے ذریعہ سے حق سے مستفیض ہوتے ہیں۔ اور دین کے مغز کو سابقون نے محفوظ رکھا ہوتا ہے۔ پھر کیا ان کا حق نہیں ہوتا