خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 154

۱۵۴ رکھتا ہو۔اور دین پر اس کا کوئی اثر نہ پڑے۔ا میں نے بتایا تھا۔کہ آپ لوگ دینی کام کے لئے یہاں آئے ہیں۔اور سب کسی نہ کسی رنگ میں دینی کام کرتے ہیں۔ورنہ اگر ان کاموں کو دینی نہ کہا جائے گا تو دین نماز روزہ ہی رہ جائے گا۔یا سارا دن اور کام کرنے کے بعد اگر کسی کو تبلیغ کی جائے گی۔تو وہ دینی کام ہو گا۔مگر اصحاب الصفرو شمولیت اعلیٰ درجہ کی چیز سمجھی گئی ہے۔اور اس کی وجہ یہی ہے۔کہ ان کی ہر گھڑی دینی کام میں صرف ہوتی ہے۔پھر میں نے بتایا تھا۔کہ جب ہمارے کام دینی کام ہیں۔تو ملازمت اور نوکری کا کیا سوال۔جب خدا اور رسول کے لئے۔اور اس کے جانشینوں کی مدد کرنے کے لئے اور اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (النساء) کی تینوں شقوں کو پورا کرنے کے لئے یعنی خدا اور رسول اور تم میں جو اولی الامر ہو اس کے احکام بجا لانے کے لئے جمع ہوئے ہو تو پھر ملازمت کیسی۔اور ایسے اہم اور ضروری کام کو ملازموں کے سپرد کس طرح کیا جا سکتا ہے۔پھر میں نے بتایا تھا۔کہ اس مقصد کو پورا کرو۔میری اس تعلیم کی غرض کیا ہے۔کیا محض یہ کہ شورش اور بے اطمینانی مٹ جائے۔نہیں۔کیونکہ اس میں میرا کوئی نقصان نہیں اور نہ مجھے اس کی وجہ سے گھبراہٹ ہے۔روپیہ میرے پاس نہیں آتا۔خرچ میں نہیں کرتا۔میرا تو یہی ہے کہ ہاتھ جھاڑ کر الگ رہوں۔روپیہ اگر میرے پاس آتا اور میں خرچ کرتا تو مجھے فکر ہوتی۔کہ مجھ سے چھیں گے کہاں ہے۔مگر نہ روپیہ میرے پاس آئے نہ میں حساب رکھوں۔پس اس وجہ سے جو لڑائی جھگڑا ہوگا تمہارا آپس کا ہوگا۔اگر میں یقین اور وثوق سے یہ نہ سمجھوں کہ یہ باتیں خدا تعالی سے بعد کی علامت ہیں تو مجھے دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔مجھے صرف اس لئے فکر ہے کہ اس طرح وہ غرض مٹ جائے گی جس کے لئے تم لوگ یہاں آئے ہو۔اور جس کے لئے خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو پیدا کیا ہے۔ہمارا پیدا کرنا اور انبیاء کا آنا اس کے اندر ایک غرض ہے۔اور وہ یہی کہ ہم ایسی تبدیلی پیدا کریں۔کہ خدا تعالیٰ کا قرب اور وصال حاصل ہو جائے۔اس قرب اور وصال کے حاصل ہونے کے رستہ میں جو روکیں ہیں۔ان سے چونکہ ہمارا تعلق ہے۔اور وہ روکیں ہمیں متفکر کر دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان باتوں سے میں متفکر ہوتا ہوں۔ورنہ ذاتی طور پر میری اس میں کوئی غرض نہیں۔پس خدا تعالیٰ کا قرب اور وصال حاصل کرنا ہی وہ غرض ہے۔جس کے لئے تم لوگ یہاں آئے ہو۔اور اس کے لئے خدا نے سب کو پیدا کیا ہے۔اوروں میں اور تم میں فرق یہ ہے کہ تم نے اس غرض کو سمجھ لیا ہے۔اور انہوں نے نہیں سمجھا۔دنیا میں تین گروہ ہیں۔ایک وہ جنہوں نے سمجھا ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں اس غرض