خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 130

١٣٠ یہ فوج بڑی بہادر ہے جو آگے آگے جا رہی ہے۔لیکن دراصل وہ پچھلی فوج کے مجبور کرنے سے آگے بڑھ رہی ہوتی ہے لیکن کبھی اس کے الٹ بھی ہو جاتا ہے۔کہ بہادر بزدلوں کے حلقہ میں آتے ہیں۔اور ان کے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت غزوہ حنین میں ہوا تھا۔ایسے لوگ جو تازہ تازہ مسلمان ہوئے تھے۔اور جن کے حوصلے ایسے نہ تھے۔جیسے کہ دوسرے لوگوں کے۔وہ وقت پر بھاگ پڑے۔اور ان کے بھاگنے پر صحابہ کے قدم اکھڑ گئے۔ان کے ارادے تو قربان ہونے کے تھے۔اور اس کے لئے وہ کوشش بھی کرتے تھے۔چنانچہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں بھاگتے اونٹ کو پیچھے موڑنے کے لئے اس کی رسی اس زور سے کھینچتا کہ اس کا سر مجھے آلگتا۔مگر پھر جب میں چھوڑتا تو آگے کو ہی بھاگ پڑتا تو ان کی خواہش تھی کہ جان دے دیں اور میدان سے نہ ہیں۔مگر سامان ایسے ہو گئے کہ بزدلی دکھانی پڑی۔تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی کام کرنے کی نیت اور ارادہ تو ہوتا ہے مگر اس کے باوجود ایسے مخالف حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ ارادہ کے خلاف انسان کر بیٹھتا ہے۔اور کبھی ایک کام کے کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا۔مگر حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں۔کہ انسان کر لیتا ہے مثلاً کوئی ایسی مجلس میں جائے جہاں ہنسی مذاق کی باتیں ہو رہی ہوں۔مگر وہاں کوئی دیندار آدمی آگیا۔اور اس نے دین کے متعلق گفتگو شروع کر دی۔اب وہ شخص جو ہنسی مذاق کی باتیں سننے کے لئے آیا تھا۔اٹھنے سے شرم کرتا ہے اور بیٹھا رہتا ہے۔اور دینی باتوں سے فائدہ اٹھا لیتا ہے۔یا ایسا ہو کہ ایک شخص نماز کے لئے جانے لگے۔رستہ کے درمیان کوئی برات اتری ہو۔اور تماشہ ہو رہا ہو اسے دیکھنے لگ جائے اور نماز کے لئے نہ جائے اگر چہ وہ نماز پڑھنے کی نیت اور ارادہ کر کے گھر سے نکلا تھا۔لیکن حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ وہ نیک کام نہ کر سکا تو ضمنی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ کبھی تو نیکی کو بدی بنا دیتے ہیں اور کبھی بدی کو نیکی۔اس بات کو خوب اچھی طرح مد نظر رکھنا چاہئیے۔اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں ہمارا اصل کام تو وہ ہے۔جس کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔اور آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے وعدہ کیا ہے۔لیکن ہو ہے کہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں۔جن کی وجہ سے آنکھوں پر پردہ پڑ جائے۔اور غفلت کی ہوا ہمیں تھپک تھپک کر سلا دے۔اور ہم اس وقت اٹھیں۔جب سورج بہت چڑھ گیا ہو۔اس لئے ان حالات کو بغور دیکھنا اور ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔یہ حالات کئی طرح کے ہیں مثلاً ایک جس کا لوگوں پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ملازمت کا سوال ہے۔جب کام کرنے والوں کے نام کاغذات میں بطور ملازم لکھے جاتے ہیں۔اور کہا جاتا ہے کہ یہ انجمن کا ملازم ہے۔اور یہ نظارت کا ملازم ہے۔یہ فلاں صیغہ کا نوکر ہے۔اور یہ فلاں دفتر کا نوکر۔تو سکتا