خطبات محمود (جلد 7) — Page 128
۱۲۸ اسی رنگ میں یہاں بھی مشق ہونی چاہئیے۔مگر پچھلے سال جو خطبہ میں نے پڑھا تھا۔وہ تو ہوا میں ہی اڑ گیا۔کیونکہ زمین پر مجھے اس کا کوئی نشان نہ ملا۔اور جس طرح پہلے شکائتیں ہوتی تھیں اسی طرح اس سال بھی ہوئیں۔اس سال پھر میں نے بتایا ہے کہ اس طرف توجہ کرو۔افسر نے تو توجہ کی ہے اس نے مجھے یاد دلایا ہے کہ آپ نے گذشتہ سال یہ کہا تھا۔اس سے معلوم ہوا اس کو تو یاد ہے۔اب میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں۔جن جن سے ممکن ہو۔حتی کہ وہ بھی جنہیں اپنا کام ترک کرکے حصہ لینا پڑے۔سوائے ان کے جو سارا سال کام کرتے ہیں۔وہ ریزرو کے طور پر اس وقت تک رہیں گے۔جب تک ان کے کام کرنے کا موقع نہیں آتا۔وہ اپنا کام کریں۔باقی اپنے آپ کو پیش کر دیں۔اور جو جو خدمت ان کے لئے مقرر ہو۔افسروں کے ماتحت اس کی مشق کریں۔اور اپنے آپ کو کام کرنے کا عادی اور مشاق بنا ئیں۔میں نے دیکھا ہے بہت سی شکایات اسی وجہ سے ہوتی ہیں۔کہ کام کرنے والوں کو اس کام کی مشق نہیں ہوتی۔مثلاً اسباب کے متعلق ہی شکایت ہوتی ہے۔کہ سٹیشن پر آدمی موجود نہیں ہوتے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے۔کہ جن کو وہاں مقرر کیا جاتا ہے۔انہیں ایک جگہ بہت دیر تک کھڑے رہنے کی عادت نہیں ہوتی۔وہاں طالب علموں کو بھیجا جاتا ہے۔ایک طالب علم یہ تو کر سکتا ہے۔کہ پندرہ گھنٹے ایک کتاب کے پڑھنے میں لگادے۔لیکن یہ نہیں کر سکتا کہ اتنا عرصہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا رہ سکے۔کبھی اسے پیشاب آجائے گا۔کبھی پاخانہ۔کبھی کوئی اور بات پیدا ہو جائے گی۔اور ایسا ہونا ضروری ہے۔کیونکہ اس کی طبیعت اور مشق کے خلاف کام ہے۔لیکن جو کھڑا رہنے کا عادی ہو گا وہ باقاعدہ کھڑا رہ سکے گا۔یا اور کام ہیں مثلاً کھانا کھلانا۔دیکھا گیا ہے کہ پرچیاں تقسیم کرنے والے گھبرا جاتے ہیں۔اور اس طرح ان کے کام نہ کر سکنے کی وجہ سے شکائتیں پیدا ہوتی ہیں۔اس کی وجہ بھی یہی ہے۔کہ انہیں مشق نہیں ہوتی۔اور وہ ایسا کام کرنے کے عادی نہیں ہوتے۔لیکن اگر مشق کرائی جائے۔اور زیادہ نہ سہی پچاس ہی آدمی ہوں۔جو بار بار پرچیاں مانگیں۔اور ہجوم بن کر ان کے گرد جمع ہو جائیں۔تو معلوم ہو سکتا ہے کہ کام کرنے والوں میں کیا کیا ہو نقص ہیں۔اور پھر ان کو دور کیا جا سکتا ہے۔پس پہلے تو میں یہ نصیحت کرتا ہوں۔کہ جن جن سے ممکن ہو سکے اور اکثر سے ممکن ہے۔اور چند مستثنیات کو چھوڑ کر باقی کام کر سکتے ہیں اور انہیں کرنا چاہئیے انہیں جلسہ کے افسر کے بلانے پر اپنی خدمات پیش کرنی چاہئیں۔اور افسروں کے ماتحت مشق شروع کر دینی چاہئیے۔تاکہ موقع اور وقت پر مفید ثابت ہو سکیں۔