خطبات محمود (جلد 7) — Page 126
ٹوکری اٹھانے والے مزدور کی کمر کئی مشقوں کے بعد ایسی بنی ہے۔کہ وہ دیر تک نوکری کی مشقت برداشت کر سکتا ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ تم اس سے زیادہ طاقتور ہو۔اسے اٹھا کر زمین پر گرا سکو۔اس کی گردن ہاتھ سے پکڑ کر اس قدر زور سے دبا سکو کہ اس کی چیخیں نکل جائیں اور چھڑا نہ سکے۔مگر اس کے مقابلہ میں تم نوکری نہیں اٹھا سکو گے۔ایک پہلوان جو بڑے طاقتور انسان کو گرا سکتا ہے۔یا کلائی پکڑنے کا ماہر جو مضبوط سے مضبوط آدمی کی کلائی پکڑ کر چھوڑتا نہیں۔اور اس کی ہڈی ٹوٹنے کے قریب کر دیتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک مزدور جو نہ تو کشتی کر سکتا ہے۔اور نہ کلائی پکڑنا جانتا ہے۔جب ٹوکری اٹھائے گا تو پہلوان اور کلائی کا ماہر رہ جائے گا۔اور ہرگز مقابلہ نہیں کر سکے گا۔کیونکہ ٹوکری اٹھانے کی اسے مشق نہیں۔اور مزدور کو اس کام کی مشق ہوگی۔پس کوئی معمولی سے معمولی کام بھی بغیر مشق کے نہیں آسکتا۔میں نے بتایا تھا کہ ہمارے جلسہ کے انتظامی معاملات میں جو نقص رہ جاتے ہیں۔وہ اس لئے نہیں کہ کام کرنے والوں میں اخلاص اور محبت کی کمی ہے۔یا وہ اپنے طرف سے پوری کوشش نہیں کرتے۔بلکہ اس کی وجہ مشق کی کمی ہے۔کیونکہ وہ ایک ایسے کام کو کرنے لگتے ہیں جو انہوں نے سال بھر نہیں کیا ہوتا۔اور بغیر مشق کے کام پر کھڑے کر دئے جاتے ہیں۔میں تو ایک گاؤں کا رہنے والا ہوں مجھے ایسی باتوں کے دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔اور ہمارے ہاں تو شہروں میں بھی ایسی باتیں دیکھی نہیں جاسکتیں۔مگر میں کتابوں کے پڑھنے کا بہت شائق ہوں۔اور اتنا کہ کتابوں کا کیڑا کہنا چاہئیے۔میں ہر فن ہر مذاق اور ہر رنگ کی کتابیں پڑھتا رہتا ہوں میں نے پڑھا ہے۔کہ بڑے بڑے مشاق ایکٹر (Actor) بھی جب کوئی کھیل کرنے لگتے ہیں تو پہلے اس کی مشق کر لیتے ہیں۔اور اپنے طور پر وہ کھیل کر کے دیکھ لیتے ہیں کہ کوئی نقص اور کمی تو نہیں رہ گئی۔حالانکہ اس فن میں وہ بہت ماہر ہوتے ہیں۔بات یہی ہے کہ ہر کام کرنے سے پہلے اس کی مشق ضروری ہے۔دیکھو ایک پولیس مین جو اکیلا کھڑا ہوتا ہے۔ہزاروں گاڑیوں کو ایسے مقام سے بآسانی گزار دیتا ہے جہاں چوراہا یا چھ رہا ہوتا ہے۔جیسے کہ ہمیٹی جیسے شہروں میں ایک مقام پر کئی کئی رستے ملتے ہیں۔اگر وہ ذرا بے احتیاطی سے کام لے۔تو ایک دن ایسا نہ گزرے جس میں بیسیوں خون نہ ہو جائیں۔ایک طرف سے بیل گاڑی آتی ہے۔دوسری طرف سے گھوڑا گاڑی۔تیسری طرف سے موٹر۔لیکن اکیلا پولیس مین ایک سیٹی سے سب پر حکومت جمائے رکھتا ہے۔اس کی نظر چاروں طرف پڑتی ہے۔اور وہ عمدگی سے سب کو اپنے انتظام کے نیچے رکھتا ہے۔اور احتیاط کے ساتھ گزارتا ہے۔اس کی بجائے اگر پچاس بی۔اے بھی کھڑے کر دئے جائیں تو کچھ نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ انہیں اس کام کی مشق نہ ہوگی۔عقل، فہم، فراست اور علم اس موقع پر کچھ کام نہ دے