خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 121

ثریا سے اتار کر لائے ہیں۔تو اس کا کام اور اس کی خدمت اور حفاظت کا کام نوکروں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔اور اگر کیا جائے تو جرم ہو گا۔سنو اور غور کرو۔میں اس وقت کوئی ایسی زبان نہیں بول رہا۔جس کو تم نہ سمجھ سکو۔نہ میں ایسی عبارت میں باتیں کر رہا ہوں جو تمہارے فہم سے بالا ہو۔مجھ میں جس قدر اظہار مدعا کی قابلیت ہے۔اس کے مطابق میں صاف صاف بغیر کسی الجھاؤ کے کہتا ہوں کہ خدمت دین ایک ایسا خزانہ ہے۔جس کو میں نوکروں کے سپرد کرنا خلاف تجربہ اور خلاف عقل سمجھتا ہوں۔نوکری کا رشتہ نہایت ادنیٰ اور بہت ہی کمزور رشتہ ہے۔اور یہ کام ان کے سپرد نہیں کر سکتا جن کا میرے ساتھ اتنا کمزور رشتہ ہو۔بلکہ اس کام کے لئے ان لوگوں کی ضرورت ہے۔جو عربی میں اصحاب کہلاتے ہیں یا جن کو پرانے زمانے میں حواری بھی کہتے تھے۔خدمت دین کا کام ملازموں کے سپرد نہیں ہو سکتا۔بلکہ اصحاب کے سپرد ہو سکتا ہے۔صحابی وہ ہے جو صرف صحبت چاہتا ہے۔وہ کوئی مقررہ رقم نہیں مانگتا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جو لوگ تھے اور جنہوں نے خدمت دین کی وہ مال کے لئے آپ کے پاس نہ آئے تھے ان میں سے وہ لوگ جو مرتے ہوئے دولت پیچھے چھوڑ گئے وہ اس دولت کے لئے نہ آئے تھے۔نہ بادشاہت ان کا مقصد تھا۔نہ گور نریاں۔یہ دولت اور رہتے جو ان کو ملے محض بطور تحفہ تھے نہ کہ بطور بدلہ کے۔وہ لوگ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت چاہتے تھے۔وہ اصحاب تھے۔ملازم نہ تھے۔وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ایک کام کرنے کو تیار تھے جس کو ملازم نہیں کر سکتا۔بادشاہ کا پاخانہ بھی اگر ہو تو اس کو اٹھاتے ہوئے بھنگی تک ایک نفرت محسوس کرتا ہے۔مگر ان لوگوں کو موقع پڑے تو اس کے اٹھانے میں بھی کراہت نہ تھی۔نہ صرف کراہت نہ تھی بلکہ فخر سمجھتے تھے۔صلح حدیبیہ کے موقعہ پر مکہ والوں نے اپنے میں سے ایک امیر کو شرائط صلح کے تصفیہ کے لئے بھیجا۔وہ آیا اور اس نے کہا کہ کیا تم ان لوگوں پر جو تمہارے گرد جمع ہیں بھروسہ کرتے ہو وقت پر یہ تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے بھروسہ بھائیوں پر ہوتا ہے۔کیا تم ان کی خاطر بھائیوں سے بگاڑتے ہو۔اس نے تو یہ کہا۔مگر ان لوگوں کی جو اصحاب تھے ملازم نہ تھے۔کیا حالت تھی۔یہ کہ آنحضرت کے تھوک کو زمین پر نہ گرنے دیتے تھے۔بلکہ ہاتھوں پر لیتے اور جسم پر مل لیتے تھے۔اور وضو کے پانی کا ایک قطرہ تک زمین پر نہ جانے دیتے۔ہر ایک اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔اور ایسی حالت تھی کہ قریب تھا کہ اس کشمکش میں ان میں تلوار چل جائے۔وہ واپس گیا اور جاکر کہا کہ میں نے قیصر و کسری کے دربار دیکھے ہیں۔مگر ان کے درباری بھی اتنے جاں نثار نہ تھے جتنے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی ہیں۔۲۔یہ کیا بات تھی؟ یہی کہ قیصر و کسریٰ کے دربار میں ملازم تھے۔اور آنحضرت کے ساتھ اصحاب