خطبات محمود (جلد 7) — Page 114
۱۱۴ ہے۔ایک چیونٹی کو دیکھ کر اس کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر سورج کو دیکھا جائے تو بالکل ہی انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کو دیکھ بھی لیا ہو۔مگر اس دید کا کوئی اثر باقی نہ ہو۔اگر واقعی تم نے خدا کو دیکھ لیا ہے تو پھر تمہارے اندر کوئی ایسی بات نہیں رہ سکتی جو خدا کی دید کے بعد نہیں رہنی چاہئیے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ نہایت معمولی باتوں سے لوگوں کو ٹھوکر لگتی ہے اور ان کے قدم متزلزل ہو جاتے ہیں۔بات یہ ہے کہ ان کا دعویٰ ایمان جھوٹا اور غلط ہوتا ہے۔کیونکہ ایمان رویت اور تسلی کو چاہتا ہے۔جب تک رویت اور تسلی نہ ہو۔جب تک ایمان کی خوشبو نہ آئے اس وقت تک ایمان کا دعویٰ بے معنی ہے۔اب تم اپنی اپنی حالت کو دیکھ لو۔تم میں سے کتنوں کو خدا پر چیونٹی کے برابر بھی ایمان ہے۔جب تک اتنا بھی ایمان نہ ہو۔کوئی مومن کس طرح کہلا سکتا ہے۔اگر تمہارے دن رات کسی اور طرف لگے رہتے ہیں۔اگر تم میں خدا کے لئے تڑپ نہیں۔اور نہ تم کو اس کا احساس ہے۔اور نہ کوئی روحانی زندگی کی علامت ہے۔تو ایسی حالت میں تمہیں کون مومن سمجھ سکتا ہے۔کون عقل مند ہے جو تمہارے دعوئی ایمان کو سچا مان سکتا ہے۔میں تو کہتا ہوں اگر کسی میں ایمان کی خوشبو ہے تو خواہ وہ ہزار نیکی نہ کرتا ہو خدا کا مقرب ہے۔لیکن اگر کوئی ساری عبادتیں بجالاتا ہے۔مگر اس کی روح میں بدی ہے اور وہ روحانی اور ایمانی خوشبو اپنے اندر نہیں رکھتا۔تو اس کی یہ تمام عبادتیں اکارت ہیں۔اور اس کی عبادتیں خس و خاشاک کی مانند ہیں۔جن کو آگ کی ایک لپٹ جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ہاں وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں۔خواہ ان میں بعض نیکیوں کی کمی ہو ان کی مثال اس شخص کی مانند ہوتی ہے جو خزانہ پر بیٹھا ہوتا ہے جب کوئی خطرناک وقت آئے وہ مال نکال کر اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔جس کو قرب حاصل ہے۔اس میں اگر کوئی سستی ہو تو اس قدر خطرہ کی بات نہیں۔برخلاف اس کے جس کو قرب نہیں۔اس کی حالت قابل اطمینان نہیں۔ان دونوں کی یعنی ایک جس کو قرب حاصل ہے مگر اس کے اعمال میں کسی قدر سستی ہے۔اور دو سرا وہ جس کو ایمان حاصل نہیں گو وہ عمل کرتا ہے ایسی مثال ہے جیسا کہ جنگل میں دو شخص ہوں ایک کے پاس اس کی ماں کی تصویر ہو شیر اس پر حملہ کرے اور وہ ماں کی تصویر کو چھاتی سے لگالے ظاہر ہے کہ یہ تصویر اس کو نہیں بچا سکتی۔اور دوسرا اپنی ماں کی گود میں ہے۔گو اس کی آنکھیں بند ہیں۔اور وہ سویا ہوا ہے مگر اس کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔پہلا باوجود ہوشیار ہونے اور ماں کی تصویر کو سینے سے لگانے کے محفوظ نہیں اور دوسرا غافل ہے مگر ماں کی گود میں ہے۔پس تمہیں اپنے اندر اس روح کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ تمہاری زندگی عبث ہے۔