خطبات محمود (جلد 7) — Page 113
۱۱۳ سے ہر ایک اپنے ایمان اور عملی حالت کے لحاظ سے آدم کے دونوں فرزندوں میں سے کسی ایک کے مطابق ہے۔جو نیکی اور ایمان کے ساتھ خدا کے حضور آتا ہے۔وہ اس فرزند کے مطابق ہے جس کی قربانی مقبول ہوئی۔اور جو ناپاکی اور بری نیت اور غیر خالص ایمان لاتا ہے۔وہ دوسرے فرزند کے مطابق ہے جس کی قربانی مقبول نہ ہوئی۔یاد رکھو کہ محض دعویٰ سے قبولیت حاصل نہیں ہوتی بلکہ دعویٰ کے ساتھ کچھ حقیقت بھی ہو تو قبولیت حاصل ہوتی ہے۔اگر قربانی سچے دل سے جان اور مال کی نہیں کی جاتی۔بلکہ ایمان کے دعوئی کے ساتھ جب تک کوئی نہ کوئی بلندی راستہ میں رہتی ہے جو روکتی ہے وہ کوئی ایمان نہیں۔کیونکہ تم دیکھتے ہو اگر کوئی بلندی حائل ہو تو تم اپنے محبوب کو نہیں دیکھ سکتے۔اسی طرح اگر خدا تعالی تک پہنچنے میں تمہارے راستے میں عزت کا ٹیلا ہے یا جاہ و مال کا ٹیلا ہے جس کو تم پامال نہیں کرتے۔تو تمہارا ایمان کچھ نہیں۔ایمان تو وہ چیز ہے کہ جس کے بعد ایک امن آجاتا ہے۔اور اس کے بعد کوئی دنیاوی خلش باقی نہیں رہتی۔کیا تمہاری حالت ایسی ہے؟ کیا یہ لطیفہ نہیں کہ اگر کوئی شخص گلاب کا عطر لگاتا ہے یا کیوڑا چھڑکتا ہے تو اس سے اس کی روح کو فرحت حاصل ہوتی ہے اور اس کی خوشبو سے فضا مہک جاتی ہے لیکن تم کہو کہ تمہیں خدا پر ایمان ہے اور خدا کی محبت تمہارے دل میں ہے۔مگر تم سے کوئی خوشبو نہ آئے۔ان لوگوں کو چھوڑ دو جن کے حواس درست نہیں وہ بیمار ہیں مگر جن کے حواس بجا ہیں ان کو تم سے خوشبو آنی چاہیئے۔اگر واقعہ میں تمہیں ایمان حاصل ہے اور تم نے خدا کو پالیا ہے۔اور وہ تم سے علیحدہ نہیں اور اس کی محبت تم میں سما گئی ہے تو تم سے کیوں خوشبو نہیں آئے گی۔تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نے کب کہا کہ ہم نے خدا کو پالیا۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں۔مگر یہ کہنا تمہاری غلطی ہوگی کیونکہ خدا کا پانا اور مومن ہونا ایک ہی بات ہے۔مومن وہ ہے جس نے مشاہدہ کر لیا اور اس کو یقین حاصل ہو گیا۔مومن امن میں ہے۔اور امن میں وہی ہوتا ہے جو محافظ کے پاس ہوتا ہے۔پس جب تم مومن ہونے کا دعوی کرتے ہو تو ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتے ہو کہ تم نے خدا کو پالیا اور خدا تمہارے پاس ہے۔اور تمہیں خدا کے قرب کا مقام حاصل ہو گیا ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے دل و دماغ معطر ہیں اور خدا کی محبت کا پھول تمہارے دل میں ہے۔اس لئے جس طرح گلاب کا پھول کپڑوں میں لپٹا ہوا کپڑوں کو مہکا دیتا ہے۔اسی طرح خدا کی محبت سے تمہارا جسم ملک اٹھنا چاہیے۔کیا تم خدا کی محبت کی خوشبو کو اتنا حقیر یا اتنا بے اثر خیال کرتے ہو کہ وہ گلاب کے پھول کی خوشبو سے بھی کم ہے۔ایمان کا تو یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ مومن کے دل سے ایمان کی خوشبو آئے۔لیکن جس شخص کے دل سے خوشبو نہیں آتی وہ کیسے مطمئن ہو گیا کہ اس کو ایمان حاصل