خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 107

۱۰۷ سے ے اس استاد کے علم میں ہو اس کے مناسب ہے۔ اسی طرح ایک شخص جو خدا کے راستہ میں مال جان عزت عزیز و اقارب سب کو قربان کر دیتا ہے۔ اس کو اگر اس جہان کے مادی میوے وہاں دئے جائیں تو یہ اس کی ہتک ہو گی اس لئے اس کو جو کچھ ملے گا وہ بہت ہی اعلیٰ ہو گا۔ گو اس کی شکل انسی میووں کی سی ہوگی جس کی وجہ یہ ہے کہ تا خدا تعالیٰ یہ دکھائے کہ دشمنوں نے اس خدا کے بندے سے جو نعمتیں چھین لی تھیں۔ وہ اس سے کہیں زیادہ اور اعلیٰ اس کو حاصل ہو گئیں۔ پس یہ نعمتیں اس کو ملیں گی اور ان سے وہ لذت یاب ہو گا اور اس سے اس کا عرفان اور ترقی کرے گا اور ذوق بہت بڑھ جائے گا اور یہ تمام لذتیں وہی ہو گی جو تبلیغ دین سے یا ذکر الہی سے یا غربا کی مدد کرنے وغیرہ ، اس کو حاصل ہوتی تھیں۔ یہی حال پل کا ہے۔ وہ پل در حقیقت تلوار سے کہیں زیادہ تیز ہوگا۔ اور ا تیز ہو گا۔ اور اس پر سے لوگ اس طرح گذریں تھے جس طرح کسی کا مذہبی ثبات ہو گا۔ کچھ بجلی کی طرح کچھ ہوا کی طرح کچھ گھوڑے کے سوار کی طرح کچھ دوڑتے ہوئے۔ اور کچھ پیدل کی مانند اور کچھ بیٹھ کر اور کچھ گھٹنوں کے ہل۔ اور کچھ دوزخ میں کٹ کر گر جائیں گے مگر یہ ایک تماشہ کی طرح نہیں ہو گا بلکہ اس کی ایک حیثیت ہوگی۔ اس پل پر سے عبور کرنے کے لئے دنیا میں بھی خدا نے ایک پل بنایا ہے۔ جیسا کہ یہاں خدا کے لئے نعمتیں چھوڑنے والے کے لئے وہاں نعمتیں ہیں اسی طرح یہاں بھی ایک پل ہے جو اس دنیا کے پل پر سے گزرے گا۔ وہ اس جہان کے پل پر سے بھی گزر سکے گا۔ اور جس طرح اس نے اس دنیا کے پل کو عبور کیا ہو گا اسی طرح اس جہان کے پل کو بھی طے کرے گا۔ اگر یہاں بجلی کی طرح گذرا تو وہاں بھی اگر یہاں ہوا کی طرح گزرا تو وہاں بھی اسی طرح گزرے گا۔ لیکن اگر اس پل پر سے گر کر کٹ گیا تو اس پل کو عبور کرنے میں بھی کٹ کر دوزخ میں گر جائے گا۔ وہ پل کونسا ہے جس پر دنیا میں گزرنا پڑتا ہے۔ وہ شریعت کی پابندی اور سچے مذہب کی اطاعت کامل ہے۔ جو اس پر سے گذرتے ہیں۔ کوئی ان میں سے اخلاق کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے اس یل سے گذرتا ہو ا کٹ جاتا ہے۔ اور کوئی حسد اور کینہ اور بغض کی وجہ سے مارا جاتا ہے۔ بعض شریعت کے دیگر احکام کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے اس پل پر سے گزرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اخلاق میں اعلیٰ درجہ کے ہوں گے دین کی اطاعت میں کامل ہوں گے۔ اور خدا تعالیٰ احکام کو کامل شوق سے مانتے رہے ہوں گے۔ وہ اس پل سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے۔ ممکن ہی نہیں کہ کوئی اس دنیا کے پل سے لڑھکتا ہوا گزرے اور اگلے جہان کے پل پر سے آسانی کے احکام یہ سے گزر جائے۔ جو یہاں دوڑتے ہوئے نہیں گزرتے وہ شیطان کے حملوں سے محفوظ نہیں۔ اس دنیا میں جو پل ہے وہ دوسرے جہان کے اس پل پر چلنے کے لئے بطور مشق ہے جو لوگ اس