خطبات محمود (جلد 7) — Page 93
۹۳۔نے فرمایا یہی طریقہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہونا چاہئیے۔شیطان خدا کی راہ میں کتنے کا کام کرتا ہے۔اول تو انسان اس کو ہٹانے کی کوشش کرے۔اگر نہ ہے تو پھر خدا ہی کو آواز دے اور اس سے مدد مانگے۔پس جب تک دشمن راستے سے نہ ہٹ جائے۔اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔اس لئے فرمایا تیرا دشمن ہلاک ہو گا۔اور تیرا راستہ صاف کیا جاوے گا۔تاکہ مسلمان بے خوف و بے خطر خدا تک پہنچ سکیں۔جب تک یہ چاروں رکن نہ ہوں۔تب تک نہ کسی مذہب کی صداقت ثابت ہو سکتی ہے۔نہ اس کا قیام ہو سکتا ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اے رسول یہ چاروں ستون تیرے مذہب میں موجود ہیں۔اور جب تک بندہ ان چاروں ستونوں پر کھڑا نہ ہو۔اس کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ایمانوں کو ان چاروں ستونوں پر قائم کرو اول تمام صفات کاملہ کے مالک واحد خدا پر ایمان لاؤ۔پھر خدائی سامانوں پر بھی یقین رکھو۔جیسا کہ اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اصلاح کے لئے مسیح موعود کو بھیجا۔اور اپنے اس وعدہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔فراموش نہیں کیا۔دیکھو ایک وہ زمانہ تھا کہ عیسائیوں کے سامنے مسلمانوں کا دم نکلتا تھا۔اب ہم ان کے گھر پر حملہ کرتے ہیں اور وہ ہمارے آگے آگے بھاگتے ہیں۔تیسری بات آپ کے ذمہ ہے کہ اپنے اعمال کی درستی کرو۔اور دوسروں کی اصلاح کی بھی فکر کرو۔آپ بھی فائدہ اٹھاؤ۔اور لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔چوتھے یہ کہ تمہارے دشمن خائب و خاسر ہونگے۔مگر شرط یہ ہے کہ بندہ بھی کوشش کرے۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی پورے زور سے لڑتے تھے۔اب دشمن کو ہلاک کرنے کی کوشش سے مراد مارنا نہیں۔بلکہ حق کے دلائل و براہین پیش کر کے اسے شرمندہ کرے۔پھر جب بندہ اپنا کام کرتا ہے۔اور دشمن ضد سے باز نہیں آتا۔تو خدائی تلوار اٹھتی ہے۔اور اسے ہلاک کرتی ہے۔چونکہ اس سورت میں اپنوں اور دوسروں سے بھلائی کا ذکر ہے۔اس لئے ایسی باتوں کا پھر اعادہ کرتا ہوں۔جو اس ملک میں خصوصیت سے ہیں۔یہاں عام طور پر عورتیں شاکی ہیں۔کہ خاوند گالیاں دیتے ہیں۔گالی دینا کمزوری اور بزدلی کی علامت ہے بعض وجوہات سے اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر حاکم بنایا ہے۔لیکن یونہی مارنا، پیٹتا اور گالیاں دینا جائز نہیں۔گالیاں تو کسی صورت میں جائز نہیں مارنا بھی مجبوری کے وقت جب عورت کھلی کھلی بے حیائی کرے۔جائز ہے۔مگر وہ بھی اتنا کہ جسم پر نشان نہ پڑے۔عورتوں سے رافت اور حسن سلوک کا حکم ہے۔لوگوں کے اس حکم کو قطع نظر کرنے سے آج کل دشمن اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک عورت کی بڑی گری ہوئی حیثیت ہے۔لیکن دراصل عورتیں ویسی ہی ہیں جیسے مرد یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے