خطبات محمود (جلد 7) — Page 91
۹۱ ہیں۔نیا مسئلہ کفارہ پر یقین کرتے ہیں۔غرضیکہ یہ عقائد وہ نہیں جو حضرت عیسی لائے تھے۔اور یہ اس لئے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مذہب کی حفاظت نہ کی۔اور اب دور رسالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے مقرر تھا۔اگر اب یہ مذہب مقبول خدا ہوتا تو ان میں سے کوئی آتا جو اس کو صاف کرتا اور اس کے اندر جو میل ملا دی گئی تھی اس کو دور کرتا۔جس طرح کپڑا میلا ہو جائے تو اس کو دھو کر صاف کر لیتے ہیں۔لیکن اگر دوبارہ نہ پہنتا ہو۔تو پھاڑ کر پھینک دیتے یا جلا دیتے ہیں۔چونکہ اب اللہ تعالیٰ نے نیا دین بھیجا تھا۔ایک نیا جامہ تیار کرنا تھا۔جس کو رسول کریم لائے۔اور جس کو ابو بکر عثمان عمر علی اور دوسرے صحابہ نے پہنا۔اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا۔اس لئے خدا کو اس پرانے کپڑے کا رکھنا منظور نہ ہوا۔خرابی تو ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔اور ہر مذہب میں ہو جاتی ہے۔مگر جس طرح کپڑے میلے ہو جاتے ہیں پہننے والے دھوئے جاتے ہیں اور نہ پہننے والے پھینک دئے جاتے ہیں۔اسی طرح جو دین ہمیشہ رکھنا ہو۔اس کو صاف کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے بھیجتا رہتا ہے۔اور اگر کسی دین میں خرابی تو پیدا ہو گئی ہو۔مگر اس کی اصلاح کرنے والے نہ آئیں تو جان لو کہ اس مذہب کا قیام خدا کو منظور نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی تو نہ گھبرا کہ تیرا جامہ پہلے نبیوں کے جاموں کی طرح نہ ہو گا۔جو صفانہ ہوئے بلکہ پھینک دئے گئے۔ہم نے تیرے لئے ہر ایک قسم کے خزانے مقدر کئے ہیں حتی کہ ایسے آدمی مقرر کئے ہیں جن کے اندر بڑی پاکیزگی ہوگی۔جو تیرے دین کی صفائی کریں گے۔اور دنیا کی اصلاح کی قابلیت رکھتے ہوں گے۔اور جب کبھی دین کے اندر خرابی پیدا ہوگی۔وہ اس کی اصلاح کے لئے آئیں گے۔اور اس طرح یہ مذہب مٹ نہیں سکے گا۔کہتے ہیں چوں قضا آید طبیب اللہ شود۔جب موت آتی ہے حکیم کی عقل ماری جاتی ہے۔چونکہ مسلمانوں کے لئے ادبار مقدر تھا۔اس وجہ سے معمولی عقل کے مسائل بھی ان کے ذہن سے نکل گئے۔یہ کیسا موٹا مسئلہ ہے۔جس مکان کی مرمت نہ ہوگی وہ کب تک سلامت رہے گا۔جس کھیت کی خبر گیری نہ ہوگی۔وہ خراب و تباہ ہو جائے گا۔اسی طرح جو دین خدا کی طرف سے ہمیشہ قائم رہتا ہے۔اس کی حفاظت اور صحت کے لئے ہمیشہ خدا آدمی مقرر کرتا رہتا ہے یہ لوگ مانتے ہیں کہ اسلام ہمیشہ رہے گا۔مگر اس کی حفاظت کے سامانوں کو نہیں مانتے۔ہمیشگی کے دو ہی طریق ہیں۔یا تو وہ خراب ہی نہ ہو۔اور اس میں تغیر ہی نہ آئے یا اگر اس میں خرابی اور تغیر ہو تو اس کی درستی کے سامان بھی ہوتے رہیں۔جیسے سورج اور چاند جن میں خرابی نہیں ہوتی۔ان کو کسی بیرونی اصلاح کی ضرورت نہیں۔مگر سیب کے درخت تباہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے ان کی حفاظت انسان کے سپرد ہے۔اگر ایک درخت خراب ہو جاوے۔تو اس کی جگہ نیا لگایا جاتا ہے اور اگر نہ لگایا جائے۔تو آخر ایک دن یہ درخت ہی دنیا سے معدوم ہو جائے۔پس یا تو وہ چیز