خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 78

۷۸ گا۔اور علم سے اس پر نگاہ ڈالے گا۔اس پر اس کی حقیقت ظاہر ہو جاوے گی۔عربی میں صلوۃ کے معنی دعا کے ہیں۔اللهم صل کے معنی ہوئے اے اللہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا کر۔اب دعا دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک وہ شخص دعا کرتا ہے۔جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔وہ دوسرے سے التجا کرتا ہے۔جیسے ماں باپ یا دوست سے مدد طلب کرنا اور دوسرے اس شخص کی دعا ہوتی ہے جس کا اپنا اختیار ہوتا ہے۔اس کے معنی ہیں کہ وہ خود عطا کر دیتا ہے۔خدا تعالی بادشاہ ہے۔کبھی مانتا ہے کبھی نہیں۔خدا تعالیٰ کی دعا کے معنی ہیں کہ وہ ہوا، پانی، زمین، پہاڑ غرضیکہ سب مخلوق کو کہتا ہے۔کہ میرے بندے کی تائید کروپس اللهم صل کے یہ معنی ہوئے کہ اے اللہ تو ہر ایک نیکی اور بھلائی اپنے رسول کے لئے چاہ۔ایک ہی دفعہ کا پڑھا ہوا درود اگر قبول ہو جاوے تو یہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ورنہ انسان جو دعا خود تجویز کرے گا اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کسی فقیر نے ایک ڈپٹی سے سوال کیا۔اس نے اس کو روپیہ یا آٹھ آنے وئے۔فقیر نے دعا دی کہ خدا تعالیٰ تجھے تھانے دار کرے۔دراصل تو یہ بددعا تھی۔مگر اس نے اپنی عقل سے یہی سمجھا۔بندہ اپنی عقل سے جو چاہے گا وہ ضرور ناقص ہوگا۔اس لئے بندہ خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ تو چاہ کیونکہ تیرا علم کامل ہے۔بارک برکہ سے نکلا ہے۔اس کے معنی اکٹھا ہونا جمع ہونا ہیں۔اسی لئے برکہ تالاب کو کہتے ہیں۔جہاں پانی جمع ہوتا ہے۔اللھم بارک کے معنی ہوئے اے اللہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنی رحمتیں، فضل اور انعامات جو تو نے ان پر کئے ہیں۔ان کو اتنا بڑھا کہ سارے جہاں کی رحمتیں اور برکتیں ان پر اکٹھی ہو جاویں۔صل بطور پیج کے ہے۔اور بارک اس سے بڑھ کر ترقی ہے یہ ترتیب نہایت ہی اعلیٰ اور اتم ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی ترتیب بھی احسن و اکمل ہے ایسی باتوں پر غور کرنے سے انسان کو عرفان ملتا ہے جب انسان ایسی باتوں پر غور کرتا ہے۔تو اس کا ایمان ترقی کرتا ہے دوسرے لوگوں کی مثال اندھوں کی طرح ہوتی ہے وہ پڑھتے ہیں اور سمجھتے نہیں۔الفضل ۱۵ ستمبر ۱۹۲۱ء)