خطبات محمود (جلد 7) — Page 69
44 ہیں۔جب میں باہر جاتا ہوں۔اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ یہ آسمانی رو کا نتیجہ ہے یا یہ کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم پر اب کوئی نگرانی نہیں میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب انہوں نے سلسلہ کو قبول کیا اور صداقت کے نشانوں کو دیکھا ہے۔اور پھر ایک آدھ نشان نہیں۔سینکڑوں نشانات کو دیکھا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود کے وقت ہی میں نشان نہیں دیکھے۔بلکہ آپ کے بعد سے اب تک دیکھ رہے ہیں۔پھر وہ وقت کب آئے گا۔جب اپنے اخلاق کو درست کریں گے۔اپنے اخلاق کو درست کرنا ایمان کی ترقی کا پہلا قدم ہے۔دوسرے قدم اس کے بعد ہیں۔اخلاق کی درستی سے ایمان کا کوئی کم درجہ نہیں بے شک ایمان کے مدارج ہیں۔اور ایمان گھٹتے گھٹتے اتنا تھوڑا ہو جاتا ہے کہ اس کو کفر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔کیونکہ کفر میں ایمان کا ایک جزو ہوتا ہے۔خالی کفر دنیا میں نہیں ہے۔اگر ایسے کافر ہوتے کہ جن میں ایمان کا کوئی حصہ نہ ہوتا۔تو دنیا پر آسمان سے یک لخت بجلی گرتی۔اور اس کو تباہ کر دیتی۔بد ترین کافر بھی ایمان کا ایک حصہ رکھتا ہے۔ابو جہل، نمرود شداد فرعون وغیرہ بڑے کافر تھے۔مگر ان میں بھی ایمان کا ایک حصہ تھا لیکن صرف ایمان کا ایک حصہ نجات نہیں دلا سکتا۔بلکہ نجات کے لئے ایک خاص مقدار ایمان کی ضرورت ہے۔پس جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اخلاق میں ترقی کرے کہ اس سے اقل مقدار نجات کے لئے ایمان کی ہو ہی نہیں سکتی۔اور ضروری ہے کہ اپنے فوائد کو قربان کریں۔اگر اس درجہ سے انسان ایک خشخاش کے دانے کے برابر بھی ہٹ جائے۔تو وہ ایمان کے درجے سے ہٹنے لگتا ہے۔پس بڑی بات ابھی جانے دو۔کم از کم اقل درجہ اپنے اندر پیدا کرو۔اگر ذاتی فوائد کو قربان کرو گے تو دیکھو گے کہ خدا کی نصرت کیا کرے گی یہ نہ کہو کہ ہم خدا کی نصرت دیکھ رہے ہیں۔نصرتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک دوسروں کے طفیل۔ایک اپنے ذریعہ۔اب تک جو کچھ دیکھ رہے ہو یہ دوسروں کے طفیل سے ہے لیکن اگر تم کو وہ نصرتیں ملیں۔جو تمہاری ذات کے باعث ہوں تو پھر تم قیاس کر سکتے ہو۔کہ ان کی کیا شان ہوگئی مگر جب تم اپنی ذات کو اس قابل بناؤ گے تو پھر ذاتی نصرت ہی نہیں ملے گی۔بلکہ ایک اور تیسری قسم کی نصرت حاصل ہوگی۔جب جماعت کا اکثر حصہ ایسا ہو جائے گا تو پھر اور انعام ہونگے۔وہ جماعت کا احسان ہو گا لیکن تیسری قسم کا فیضان جاری نہیں ہو سکتا۔جب تک پہلے دو فیضان جاری نہ ہوں۔اگر تم اخلاق کی درستی کرو گے اور اپنے حقوق کو دوسروں کے لئے چھوڑو گے تو دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ کے خاص فیضان کس شان سے آتے ہیں۔یہ مراحل دعا سے اور کوشش سے حاصل کرو اور دین کی خدمت میں لگے رہو۔باہر والوں کے لئے نمونہ بنو۔غریبوں سے پیار اور شفقت کرو۔حاکم اپنے سے کسی کو کم نہ سمجھے۔تمہاری حکومت طاقت سے نہیں۔تم میں سے کون ہے جو یہ کہے کہ وہ اپنی طاقت سے حاکم ہو گیا ہے۔بلکہ یہ خدا کا