خطبات محمود (جلد 7) — Page 61
کی خاطر جب تک ہم جیتے رہیں خود کوشش کرنی چاہئیے۔جب ہم مر جائیں تو اپنی اولاد کو وصیت کر جائیں۔اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جائے۔اگر ہم نے مدعا کو سمجھ لیا ہو تو ہم کسی کے روکے سے رک نہیں سکتے۔چیونٹیوں کو دیکھو ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ گرمی کے موسم میں غلہ جمع کرتی ہیں۔تو وہ نہیں رکیں گی۔ایک جگہ سے بند کرو۔دوسری جگہ سے نکل آئیں گی۔لیکن سردی میں اگر کوئی چاہے تو ایک جگہ سے سوراخ بند کر کے اگر مہینوں کے بعد دیکھے گا تو بند ہی ہو گا۔اسی طرح ہمیں آنحضرت کی آمد اور مسیح موعود کی بعثت کی غرض کو سمجھنا چاہئیے۔جب ہم میں ہر ایک فرد سمجھ لے گا۔تو پھر وہ اس مقصد کے حصول کے لئے تمام کوشش صرف کر دے گا۔اگر پھر کمزوریاں اور غلطیاں سرزد بھی ہوں۔تو کوئی پروا نہیں۔اگر مقصد معلوم نہ ہو۔تو پھر اس کے کام بے نتیجہ اور عبث ہوں گے۔جس شخص کو مقصد معلوم ہو۔اس کی مثال اس گیند کی نہیں ہوگی۔جو یونہی زمین پر لڑھکتا ہے۔بلکہ اس انسان کی ہے۔جو ایک مقصد کے ماتحت حرکت کرتا ہے۔وہ اگر گرتا ہے۔تو پھر اٹھ کر چل پڑتا ہے۔پس چاہیے۔کہ مدعا کو سمجھا اور یاد رکھا جائے۔خدا سے ان دنوں میں خاص دعا کرو۔یہ خاص دن ہیں ان میں خدا کا وعدہ ہے کہ جو مانگے گا اس کو ملے گا ایسے ایام عوام کے لئے ہوتے ہیں۔جو خدا کے پیارے اور محبوب ہوتے ہیں۔ان کی دعا تو ہر وقت قبول ہوتی ہے۔اور وہ جس وقت مانگتے ہیں۔ان کو ملا کرتا ہے۔ماں باپ اپنے بچے کے لئے وقت مقرر نہیں کیا کرتے۔اپنا بچہ تو جب مانگے اس کو ملتا ہے۔اور یہ غیر کے لئے ہوتا ہے کہ جب اس کو کہا جائے۔کہ جو مانگو گے ملے گا۔بچہ اور بیوی کے لئے ملاقات کا وقت مقرر نہیں کیا جاتا۔غیر اگر ملنا چاہے تو اس کے لئے وقت مقرر کیا جاتا ہے۔لیکن جو ایسا وقت ہو کہ عام کو اس میں اجازت ہو۔تو جو پیارے اور محبوب ہوں وہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اپنے تعلق میں ترقی کر سکتے ہیں۔پس اس میں سب خدا کے حضور دعائیں کر سکتے ہیں۔اور اپنی درخواستیں پیش کر سکتے ہیں۔پس خدا سے دعائیں کریں۔کہ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ مقصد حاصل کرنے کی توفیق دے جو اس کا اسلام بھیجنے سے ہے اور جس کے لئے اس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔اللہ تعالٰی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔حضور جب دوسرے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے۔تو فرمایا کہ مجھے بہت دنوں سے خیال آتا ہے۔اگر مجھے فرصت نہ ملے۔تو کوئی دوسرا ذہن میں رکھے۔کہ ایک چھوٹا سے ٹریکٹ لکھا جائے۔جس میں یہ بتایا جائے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہے۔اور احمدی کا فرض کیا ہے۔لوگ نیکی کرتے ہیں اور اس کام کی طرف قدم اٹھاتے ہیں۔مگر اس طرح نہیں۔جس طرح ایک شخص ڈیوٹی ادا کرتا ہے۔اگر کوئی شخص چور کو اتفاقا " پکڑتا ہے۔تو اس کا پکڑنا محکمہ انسداد جرائم سے مستغنی