خطبات محمود (جلد 7) — Page 59
۵۹ آزمایا تو ۹۸ رہ گئے تو اس کی ناکامی اس کی کامیابی ہے کہ وہ مقصد کے قریب ہو رہا ہے۔نادان جس وقت اس کو نا کام کہہ رہا ہے۔دراصل اس وقت وہ کامیابی کے قریب ہو رہا ہے۔لیکن ایک شخص ہے کہ وہ جنگل میں پھرتا ہے۔مگر اس کو تلاش کسی چیز کی نہیں۔نہ اس کا کوئی خاص مقصد ہے۔اگر اعلیٰ سے اعلیٰ چیزیں اس کے سامنے ہوں۔تو وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھائے گا کیونکہ اس کے پھرنے کا مقصد کچھ بھی نہیں۔تو کامیابی ناکامی کا معیار وہ نہیں جو عام لوگ سمجھتے ہیں بلکہ کچھ اور ہے۔عموماً لوگوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے صداقتیں آتی ہیں اور انکو لیتے جاتے ہیں۔لیکن مجموعہ پر انکی نظر نہیں ہوتی۔حالانکہ اصل یہ ہے کہ مجموعہ پر نظر ہو اور پھر ایک مدعا معلوم ہونا چاہیئے۔اور وہ مدعا ایک دن یا دو دن میں نہیں۔نہ ایک نسل یا دو نسل میں حاصل ہو سکتا ہے۔بلکہ نسل کے بعد نسل اور پھر نسل کے بعد نسل گذرتی ہے پھر کہیں کوئی قوم مقصد کو پا سکتی ہے۔میں تمہیں ایک صداقت بتاتا ہوں جس کو سمجھنے والے سمجھیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جزئیات احکام اسلام پر اتنا اور ایسا عمل نہیں ہوا۔جو بعد میں ہوا۔حضرت عمر جیسا انسان حضرت ابو بکر کی خلافت میں نہیں۔اپنی خلافت کے زمانے میں معمولی معمولی مسائل میں جھگڑتا ہے کہ یہ کیا مسئلہ ہے۔پس بہت سے امور کی تکمیل آہستہ آہستہ ہوا کرتی ہے۔اسی طرح جو مدعا ہوتے ہیں۔ان کا پہچاننا قوم کا فرض ہوتا ہے۔اور اس سے پھر ترقی ہوتی ہے۔اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے ماں باپ کے ذریعہ انسان کو پیدا کیا۔ورنہ زمین سے یونسی آدمی پیدا ہو جاتے اس کی غرض یہ ہے۔کہ ماں باپ سے امانت کے طور پر بچے سیکھتے ہیں۔اور اسی قومی غرض کو سکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید پھیلانا تھا۔مگر یہ آپ کے زمانہ میں تکمیل کو نہیں پہنچا۔مگر اب مسیح موعود کے زمانہ میں ہوا۔ابو بکر و عمر و عثمان و علی رضوان علیهم اجمعین وغیرہ سب موحد تھے۔مگر اس وقت زمانے میں توحید کی وہ رو نہیں چلی۔جو آج چلی ہے۔کہ ہر ایک ملک میں ہر ایک قوم جن کا شرک اوڑھنا بچھونا تھا۔وہ بھی توحید کا اقرار کرتے اور شرک کو برا کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے غلطی ہوئی۔لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ہنسی اڑائیں اور آپ کی تکذیب کریں۔مگر آپ جو توحید قائم کرنا چاہتے تھے۔وہ آخر قائم ہوئی اور اس زمانہ میں آکر ہوئی۔اگرچہ رسول کریم کے وقت میں توحید کا یہ دور دورہ نہ تھا۔مگر کنجی آپ کے پاس تھی اور وہ آپ نے چلائی۔وہ آخر اب اپنے عروج میں ہے کہ سب قومیں شرک سے بیزاری ظاہر کر رہی ہیں۔اور ابھی اور ہوگی اور شرک دنیا سے مٹ جائے گا۔ہمارا سلسلہ ان سچائیوں کے قائم کرنے کے لئے ہے۔جو نبی کریم کے ذریعہ دنیا میں آئیں۔اور