خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 58

۵۸ یہی حال قوم کا ہوتا ہے۔قوم بھی ابتدا میں غلطیاں کرتی ہے۔اور سینکڑوں سال کے بعد مقصد کو پاتی ہے۔مقصد ابتداء میں حاصل نہیں ہوا کرتا۔بلکہ غلطیاں کرنے کے ساتھ مقصد آہستہ آہستہ قریب ہو تا جایا کرتا ہے۔ابتداء میں ایک ایک صداقت سامنے آتی ہے۔اور لوگ مانتے چلے جاتے ہیں۔جیسے پیاسے کے سامنے ایک ایک قطرہ یا ایک ایک گھونٹ مگر آخر وہ صداقتیں ایک مجموعی صورت اختیار کر کے ایسی ہو جاتی ہیں۔جیسے ایک ایک قطرہ جمع ہو کر ایک تالاب کی صورت اختیار کرتا ہے۔جب صداقتیں مجموعی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔تو پھر قوم کے سامنے ایک مقصد اور مدعا ہوتا ہے۔لیکن یہاں وسعت نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اس سے کام لینے کا طریق بھی مختلف ہوتا ہے۔جس طرح تھوڑے پانی اور تالاب کے پانی سے کام لینے میں فرق ہو گا۔اس وقت وسعت نظر کے ساتھ بہت سی جزئیات سامنے آجاتی ہیں۔اس وقت جو شخص کسی سلسلہ میں داخل ہوتا ہو۔تو اپنی تمام ذمہ دارویوں کو سمجھ کر اور غور کر کے ہوتا ہے۔اور جب سمجھ لیتا ہے تو پھر کوئی کمزوری اور کوئی غلطی اس کو اس راہ سے الگ نہیں کر سکتی۔اس سے کمزوری سرزد ہوتی۔غلطیاں ہوتیں۔اور اس کے کام میں ستیاں ہوتی ہیں۔مگر ان تمام نقصوں کے باوجود اس کا قدم آگے بڑھتا ہے وہ مدعا کو پاتا ہے اگر اس کا دینی مقصد ہے تو اس کو پاتا ہے اور اگر کوئی اور غرض ہے تو اس کو حاصل کرتا ہے۔پس سب سے پہلا سوال یہ ہونا چاہیے اور ہے کہ ہمارے اس کام کا مدعا کیا ہے۔اگر مدعا کو درمیان سے نکالا جائے تو تمام کام فضول ٹھرتے ہیں۔جب مدعا کو سامنے رکھا جائے تو کوئی کمزوری غفلت، غلطی درمیان میں حائل نہیں ہو سکتی۔لیکن جب کسی قوم کا کوئی مقصد یا مدعا نہ ہو تو وہ قوم تباہ ہوگی۔دیکھو اسلام کی تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آئی۔اور دوبارہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ سمجھائی گئی۔اس لئے غور کر کے مدعا سمجھنا چاہئیے۔کیونکہ اس کو سمجھنے کے بعد کامیابی یا ناکامی کا سوال آتا ہے۔اور جب مدعا معلوم ہو تو خواہ بظا ہر ناکامی ہو وہ کامیابی ہے۔اور جب مدعا معلوم نہ ہو تو بظاہر کامیابی ناکامی ہے۔ایک طبیب جسکی طب کا مدار ٹنکچروں پر نہیں۔بلکہ وہ علاج جڑی بوٹی سے کرتا ہے۔وہ جنگل میں جاتا ہے اس کا جنگل میں جانے کا ایک مقصد ہے۔وہ کئی بوٹیوں کو توڑتا ہے اور ان کا تجربہ کرتا ہے کہ ان کے کیا اثرات ہیں۔لیکن کئی کو توڑتا اور تجربہ کر کے چھوڑ دیتا ہے۔اور جس بوٹی کی تلاش میں ہوتا ہے پھر لگ جاتا ہے۔اس طرح گو اس کو ناکامی ہوتی ہے۔مگر اس کی ناکامی ہی کامیابی ہوتی ہے۔کیونکہ مثلاً اگر پہلے اس کے لئے سو دروازے تھے۔تو اب 49 رہ گئے۔اور پھر ایک اور کو