خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 53

۵۳ 13 روحانیت کے لئے اخلاق بطور برتن کے ہیں (فرموده ۶ / مئی ۱۹۲۱ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔گو بخار کی شکایت تو ابھی مجھے ہے۔لیکن حلق کی تکلیف میں افاقہ ہے اس لئے میں نے چاہا کہ مختصراً خطبہ پڑھوں۔زمانے کی ضروریات اور زمانے کے تقاضے ہمیشہ انسانی اعمال پر اثر ڈالتے رہتے ہیں پھر علم کی ترقی اور تنزل کا اور مال کی ترقی اور تنزل کا بھی انسانی اعمال پر اثر ہوتا ہے۔جس وقت کسی قوم میں علم کی ترقی ہوتی ہے۔اس کو اعمال میں تغیر کی ضرورت ہوتی ہے اور جس وقت کسی قوم کے مال میں ترقی ہو۔اس وقت اعمال میں بھی تغییر نمودار ہوتا ہے۔باوجود اس تغیر کے پھر بھی بعض ایسی باتیں ہوتی ہیں جو کسی زمانے سے تعلق نہیں رکھتیں اور ان کا خیال کرنا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے۔اور ان کو مد نظر رکھے بغیر کسی زمانے اور کسی سوسائٹی میں انسان عزت سے نہیں دیکھا جاتا۔وہ لوگ جو ان باتوں کو مد نظر نہیں رکھتے۔اگر فرشتوں کی مجلس میں بھی بیٹھیں تو گزارہ نہیں کر سکتے۔یہ باتیں دنیا کی ہر مجلس اور ہر سوسائٹی کے لئے ضروری ہیں۔یہ باتیں کیا ہیں۔یہ وہ اخلاق ہیں جن کی نگہداشت ایسی سمجھی گئی ہے کہ تمام انبیاء کی تعلیم میں ان کو مذہب کے ساتھ بیان کیا گیا۔وہ مذہب نہیں ہیں مگر ان کے بغیر مذہب قائم نہیں رہ سکتا اس لئے تمام انبیاء کی تعلیم میں ان کو لیا گیا ہے ہم نہیں جانتے کہ آدم کے وقت کے لوگوں میں نماز تھی یا نہ تھی۔روزہ تھا یا نہ تھا۔اگر تھا تو کس قسم کا تھا۔زکوۃ تھی یا نہ تھی۔اگر تھی تو کس طرح کی تھی۔اور کب فرض ہوتی تھی۔اور اس کے مصارف کیا تھا۔ہم یہ نہیں بتا سکتے۔کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم کو کیسی نماز کی تاکید کرتے تھے۔حج کراتے تھے یا نہ کراتے تھے۔ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے زمانہ میں ان امور پر کیا تعلیم دیتے تھے۔پھر ایران اور یورپ کے نبی یا اور جگہیں جہاں جہاں ان من است الاخلا فيها نذیر (فاطر : (۲۵) کے مطابق نبی آئے۔وہ نبی اپنی قوموں کو کیا