خطبات محمود (جلد 7) — Page 50
12 ة خدمتے دینے کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہو (فرمود ۵ار اپریل ۱۹۲۱ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میں نے پچھلے جمعہ بیان کیا تھا کہ ایک ضروری امر کے متعلق میں آپ لوگوں کے سامنے کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔مگر اس دن طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں اس مضمون کو بیان نہ کر سکا۔اور اس کی جگہ اور مضمون بیان کرنا پڑا۔گو ابھی تک میری طبیعت اسی طرح خراب ہے روزانہ بخار ہوتا ہے بلکہ اس وقت بھی ہے۔لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ مختصر الفاظ میں ہی وہ بات بیان کر دوں۔بعض کاموں کے لئے بعض اوقات ہوتے ہیں اس وقت ان کا کرنا جن اثرات کو پیدا کرتا ہے دوسرے وقت نہیں پیدا کر سکتا۔اس واسطے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ اسی وقت وہ بات بیان کر دوں دنیا میں تمام ترقیات خواہ وہ مذہبی ہوں ، اخلاقی ہوں، روحانی ہوں، علمی ہوں، دنیاوی ہوں، جسمانی ہوں ، بدنی یا مالی ہوں، حکومت اور سیاست کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہوں۔دو باتوں کے بغیر کبھی حاصل نہیں ہو سکتیں۔ایک بات تو قوت اجتماعی کا پیدا کرنا دوسری بات اس طاقت سے فائدہ اٹھانا۔یہ دو چیزیں جب تک نہ ہوں کوئی مہتم بالشان امر پیدا نہیں ہوتا۔ہر کامیابی ہر ایک ترقی کے حصول سے پہلے ایک قوت اجتماعی کا پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔یعنی وہ مادہ پیدا کرنا جس کے واسطے سے وہ مل کر کام کر سکیں یہ آسان بات نہیں کہ زبان سے کہہ دینا چلو مل کر کام کریں۔اس کے لئے کچھ قواعد ہوتے ہیں جب تک قواعد کی پابندی نہیں کچھ بھی نہیں۔اسی کی طرف حضرت صاحب نے الوصیت میں اشارہ فرمایا۔کہ مل کر کام کرو۔یعنی قوت اجتماعی پیدا کرو۔پھر اس سے کام لو۔قوت اجتماعی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔جب تک قوت اجتماعی پیدا نہ ہو۔انسان کو دوسرے حیوانات پر فضیلت ہے ہی اس وجہ سے کہ اس کو یہ ملکہ حاصل ہے۔کہ یہ اجتماعی طاقت کو ترقی دیتے دیتے انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔بعض جانوروں میں بھی ملکہ ہوتا ہے مثلاً چیونٹیاں۔جس طرح