خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 42

۴۲ ان کے مردوں کو مارتے اور ان کی عورتوں کو بے حرمت کرتے ہیں۔کیا ایسی ذلیل قوم کا ایسا فرد ہم پر عزت پائے گا۔مگر موسیٰ علیہ السلام کے چند مخلصین تھے۔جو اس مخالفت کے زمانہ میں آپ پر ایمان لائے۔اور آپ سے وابستہ تھے۔وہ فرعون کی دھمکیوں کی حقیقت کو جانتے تھے۔اور سمجھتے تھے۔کہ یہ اس کی گیڈر بھبکیاں ہیں۔اور وہ اس کی فوجوں کو مٹی کے پتلوں سے زیادہ نہیں بلکہ کم سمجھتے تھے۔یہ کیا بات تھی؟ یہی کہ انہوں نے موسیٰ میں وہ بات دیکھ لی تھی۔اور وہ سمجھتے تھے کہ موسیٰ میں وہ بات ہے۔اور یہ وہ بیچ رکھتا ہے جس میں بڑھنے کی قوت ہے اور وہ اتنا بڑھے گا کہ جس کی حد نہیں۔اس لئے قبل اس کے کہ وہ وقت آئے کہ لوگ ہمیں اس کے نیچے بیٹھنے نہ دیں ہم قریب ہو جائیں۔ہمارے زمانہ میں بھی پیج ظاہر ہوا۔اس کی مخالفت ہوئی۔دور بین نگاہ رکھنے والوں نے اس کو پہچان لیا۔اور وہ جن کو چشم بصیرت نہیں ملی تھی۔انہوں نے انکار کیا۔اور ماننے والوں کو دکھ دینے لگے۔حتی کہ ان کے رشتہ دار تک ان کی جان کے دشمن ہوئے۔اور مولویوں، ملاؤں، پیرزادوں، گدی نشینوں نے اس کے مقابلہ میں اپنی پوری قوت صرف کرنی شروع کی۔لیکن وہ پیچ بڑھنے لگا اور اپنی کونپلیں نکالنے لگا۔مگر ان کی مخالفت بیکار ثابت ہوئی۔اور اس سلسلہ نے ترقی شروع کر دی۔اب جو مخالف اعتراض کرتے ہیں۔ان کی مثال اس بزدل کی سی ہے جو فوج میں شامل ہوا۔وہاں جو لگا تیر اور خون بہنے لگا۔تو بھاگتا بھی جائے اور خون کو دیکھتا جائے اور یہ بھی کہتا جائے کہ خدایا خواب ہو۔اسی طرح تمام مخالفتوں کے باوجود خدا کا قائم کردہ سلسلہ ترقی کر رہا ہے۔اور یہ دیکھ بھی رہے ہیں مگر یہ لوگ کہتے ہیں۔خدایا جھوٹ ہی ہو۔اب یہ کیسے خواب ہو سکتا ہے اگر چہ ان میں سے اب یہ کہنے والے بھی پیدا ہو گئے ہیں۔کہ مرزا صاحب ہوشیار آدمی تھے۔اس لئے ان کا سلسلہ قائم ہو گیا۔مگر ہم کہتے ہیں کہ ان کے باپ داداے پہلے مخالف تو اس بات کے منکر تھے۔اور آپ پر اور اپ کے سلسلہ پر ہنستے تھے۔اور مخالفین کے بڑے مولوی محمد حسین نے تو کہہ بھی دیا تھا۔کہ میں نے مرزا صاحب کو بڑھایا ہے اور میں ہی ان کو خاک میں ملادوں گا۔مگر دیکھ لو کون مٹ گیا۔اور کس کے منصوبے خاک میں مل گئے۔اور کس کا سلسلہ دمیدم ترقی کر رہا ہے۔ان لوگوں کا جلسہ ہوا۔اس میں ایک مولوی نے بیان کیا کہ مرزا صاحب اور ہماری مثال تو چور اور کتے کی ہے۔مرزا صاحب چور کی طرح آئے۔اور ہم مولوی جو محافظ شریعت تھے۔کتے کی طرح ان کے پیچھے پڑے۔اس نے ہمیں ٹکڑے ڈال ڈال کر غافل کیا۔اور خود مال اٹھانے کے درپے ہو گیا۔اس نے جو مثال بیان کی اس کے کئی حصے بچے ہیں اور کئی جھوٹے۔اس نے حضرت مسیح موعود