خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 418

ماسم اور دین کے لئے بھی وقت دیں مگر یہ صورت مشکل ہے اس کے لئے جماعت تیار نہیں ہے۔ہاں دوسری صورت یہ ہے کہ ہر ایک شخص اپنی آمد کا ایک قلیل حصہ دے اور کچھ آدمیوں کو بالکل دوسرے کاموں سے فارغ کر کے دین کی خدمت میں لگایا جائے۔ہمیں ان دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرنی ہوگی کیونکہ تبلیغ ہم نہیں چھوڑ سکتے یہ ہر ایک احمدی کا فرض ہے جو شخص اس طرح خرچ کرتا ہوا گھبراتا ہے اس کا گھبرانا کمی ایمان کی علامت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں چاروں طرف عرب میں مخالفت پھیلی ہوئی تھی ہر طرف جنگ تھی۔صحابہ کو بھی وہ جنگیں لڑنی پڑیں۔آپ کے زمانہ کے بعد چاروں خلفاء کے زمانہ میں مخالفت شام دایران، افریقہ وغیرہ میں ہونے لگی۔اس لئے مسلمانوں کو ان جنگوں میں حصہ لینا پڑا پس جب دشمن لڑتا ہے تو ہم کیسے اس لڑائی میں حصہ لئے بغیر رہ سکتے ہیں۔اور ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس لڑائی میں حصہ نہیں لیتے۔تم بے شک نہ لڑنا چاہو لیکن جب دشمن لڑنا چاہتا ہے تو وہ ضرور لڑے گا۔اس میں تمہارا اختیار نہیں اگر خاموش بیٹھو گے تو سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ قتل ہو جاؤ اور مرجاؤ۔اسی طرح آج ساری دنیا میں اسلام پر حملہ ہو رہا ہے۔خواہ ہماری جماعت پر کتنا ہی بوجھ ہو ہم خاموش نہیں ہو سکتے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص خدا کے لئے نکلے اور تکالیف اس کی کمر توڑ دیں اور خدا اس کو ہلاک ہو جانے دے۔بے شک اخراجات کا بوجھ کمزور ایمان والوں کو گراں گزرے گا اور وہ اس کو محسوس کریں گے۔مگر در حقیقت یہ بوجھ ایسا نہیں ہوگا جو کمر توڑ دے۔جن لوگوں کی ایمان کی حس کم ہوگی ان کو محسوس ہو گا ورنہ نقصان دہ نہیں ہو گا۔یاد رکھو ہماری جماعت کے لئے دو صورتیں ہیں ان میں سے ایک اختیار کرنی ہوگی ایک تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مختلف ملکوں میں چلے جائیں دوسری چندہ کے ذریعہ تبلیغ ہو۔پہلی صورت پر عمل ہونا مشکل ہے اس کی وجہ جماعت کے ایمان کی کمی نہیں بلکہ کئی اور وجوہ سے اس زمانہ کے لحاظ سے یہ ناقص ہوگی۔پس دوسری صورت ہے جس پر عمل ہو سکتا ہے جو لوگ اخراجات سے گھبراتے ہیں۔ان سے پوچھنا چاہئیے کہ تم کتنا چندہ دیتے ہو۔اور پھر ان کو بتاؤ کہ جماعت میں ایسے بھی ہیں جو تم سے بہت زیادہ چندہ دیتے ہیں اور وہ اتنا زیادہ چندہ دے کر خوش ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ ان سے اور مانگا جائے اور وہ اور دیں۔پس یہ بوجھ زیادہ اگر کوئی سمجھتا ہے تو اس کے ایمان کا نقص ہے۔پہلے لوگوں نے جس قدر قربانیاں کیں ان کو دیکھ کر ہماری قربانیاں ذلیل نظر آتی ہیں۔کسی اور کو نظر نہ آئیں لیکن مجھے تو ایسی ہی نظر آتی ہیں۔پس ہمیں ہمت سے کام لینا چاہئیے اس وقت دنیا پرستی بڑھ گئی ہے خدا تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی خدمت کی توفیق دے۔اور پھر اس بوجھ کے اٹھانے کی طاقت دے۔ہم خوش ہوں اور اس کے مانند نہ ہوں جس کے متعلق