خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 399

٣٩٩ 74 غیر از جماعت لوگوں سے میل جول کی تلقین (فرموده ۱۳ نومبر ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ہماری جماعت جن حالات میں سے گذر رہی ہے اس کی وجہ سے بعض ایسے نتائج پیدا ہو گئے ہیں کہ اگر ان کو دور کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو ہماری آئندہ ترقی میں یقیناً روک پڑ جائے گی۔دنیاوی اخلاق حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اگر ان حالات کے اظہار میں بد نتائج سے بچنے اور اچھے نتائج کے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو مفید اور اگر کوشش نہ کی جائے اور ان حالات کے اثرات بد کو جو اعمال اور طبیعت اور جوارح پر پڑتے ہیں دور نہ کیا جائے تو برا نتیجہ ہوتا ہے۔وہ کیا اثرات ہیں جن کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہیں۔وہ یہ ہیں کہ موجودہ زمانہ میں ہماری جماعت کمزور ہے۔ہماری جماعت جو دعاوی کرتی ہے وہ گو قدیم ہیں لیکن اس زمانہ کے لئے نئے ہیں۔جب سے آدمی پیدا ہوا ہے۔یہی دعوئی اور یہی خیال چلا آیا ہے۔ہمارا غیر احمدیوں سے یہ اختلاف نہیں کہ روزہ رکھو یا نماز پڑھو۔ہم بھی نماز اور روزہ یونسی ادا کرتے ہیں جس طرح وہ ادا کرتے ہیں۔بلکہ بعض عقائد میں اختلاف ہے۔جو ان کے خراب ہو گئے ہیں۔اگرچہ ہمارے عقائد قدیم ہیں۔لیکن لوگوں کے لئے یہ خیالات اور عقائد نئے ہیں۔ہم ان لوگوں کے ان اعمال و رسوم و عادات پر اعتراض کرتے ہیں۔جو انہوں نے نئی پیدا کرلی ہیں۔جو عمل وہ اب کرتے ہیں۔اگر یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام بھی کرتے تو ہم میں اور ان لوگوں میں کوئی اختلاف نہ ہو تا بلکہ ہم اور وہ ایک ہوتے۔اسی طرح ہماری عیسائیوں سے لڑائی نہیں کہ ہم کوئی نئی بات کہتے ہیں۔بلکہ ہم میں اور ان میں یہ لڑائی ہے کہ انہوں نے وہ راستہ چھوڑ دیا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا راستہ تھا اسی طرح ہمیں یہود سے یہ اختلاف نہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نئے عقائد لائے تھے۔جن کو وہ نہیں مانتے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اگر یہود حضرت موسیٰ کی تعلیم پر قائم ہوتے تو ان کو حضرت