خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 398

۔YAA مخص کا جنازہ ہے یہاں لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ کس کا جنازہ غائب پڑھا جا رہا ہے اور بعض دفعہ مجھ کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔اس سے یہ بھی خیال ہے کہ ایسی حالت میں دعا کرنے کے لئے کیسے تحریک پیدا ہوتی ہوگی اور وہ کیا کہہ کر اور کس کے لئے دعا مانگتے ہونگے۔میں نے کچھ عرصہ سے یہ التزام کیا تھا کہ ہر جمعہ نماز جنازہ نہیں پڑھاتا تھا۔وقفہ ڈال کر پڑھتا تھا لیکن آئندہ جس شخص کے متعلق جنازہ پڑھا جائے گا۔اس کے متعلق میرا ارادہ ہے کہ پہلے اعلان کر دیا کروں گا۔کہ فلاں تاکہ اس کے لئے دعا کرنے کی سب کے دل میں تحریک پیدا ہو۔یوں جنازہ کو رسم نہیں بنانا چاہئیے۔یہ نہیں کہ ہر ایک شخص کے لئے لکھا جائے جو شخص دین کا ایسا خادم ہے۔کہ اس نے بہت خدمت کی ہے اس کا حق ہے کہ اس کا سب جنازہ پڑھیں۔ایسے شخص کا اخبار میں بھی ذکر ہو جایا کرے۔تاکہ لوگ اس کا جنازہ پڑھا کریں۔ورنہ اس کے رسم بننے کا اندیشہ ہے۔آج بھی ایک جنازہ ہے اور وہ سیلون کے ایک طالب علم کی والدہ ہے۔جو یہاں پڑھ رہا ہے۔فی الواقعہ اس کی ماں کی یہ کتنی بڑی خدمت دین ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو دین سیکھنے کے لئے اپنے سے علیحدہ کرتی ہے۔اس کے علاوہ سیلون ایک بڑا جزیرہ ہے۔وہاں منتشر طور پر سو ڈیڑھ سو آدمی پھیلے ہوئے ہیں۔اور اس وقت ان پر وہی حالات گذر رہے ہیں۔جو ہم پر گذر چکے ہیں۔نئے لوگ ہیں اس لئے اس علاقہ کے لوگ حق دار ہیں کہ ان میں سے فوت ہونے والے کا جنازہ پڑھا جائے۔ممبر سے اترتے ہوئے فرمایا اسی طرح سید حکیم جن کو احمدیت کی وجہ سے کابل میں قید کیا گیا تھا۔اور وہ قید ہی میں فوت ہو گئے ان کا بھی ساتھ ہی جنازہ پڑھوں گا۔الفضل ۶ نومبر ۱۹۲۳ء) ا الصمت ۱۵ ۲ سورہ بنی اسرائیل اصابه جلد ۴ و سیرا الصحابه جلد اول ص ۱۳۰