خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 397

اور دین میں سودا نہ کریں۔ورنہ وہ دین کو خراب کرلیں گے۔ہماری جماعت کے چھوٹے بڑے سمجھ لیں کہ وہ یہاں نوکری کے لئے نہیں آئے۔بلکہ وہ اس لئے آئے ہیں کہ خدا خوش ہو جائے۔پس خدا سے دین کے معاملہ میں سودے مت کرو۔خدا تو صرف ایک ہی سودا کرتا ہے کہ جان و مال لیتا ہے اور جنت دیتا ہے پس خدا یہی سودا کرتا ہے۔اور یہی سودا اس نے ہم سے کیا ہے۔جب یہ سودا ہو چکا تو پھر نئے سودے کے کیا معنی؟ یہ درمیانی مشکلات ہیں۔انشاء اللہ دور ہو جائیں گی۔لیکن ہمارے کارکنوں کے مد نظریہ کبھی نہیں ہونا چاہئیے کہ ان مشکلات کے رفع ہونے پر ہماری تنخواہیں بڑھ جائیں گی۔تم کو خدا دوست کے مقام پر کھڑا کرتا ہے اور جس کو دوست کا مقام میسر ہو وہ ملازم کا مقام لینا پسند نہیں کرتا۔اس لئے اموال کی ترقی اس غرض سے مد نظر نہ ہو کہ ہماری تنخواہ بڑھ جائے گی۔بلکہ اس لئے کہ جب ہمارے پاس زیادہ روپیہ ہو گا تو ہم اپنے تبلیغی مشن اور ممالک میں بھی کھولیں گے۔جاپان میں، فرانس میں، جرمنی اور روس میں اور دیگر ممالک میں ، ہاں ہر شخص آسودگی کے لئے اور کام بھی کر سکتا ہے۔بشرطیکہ اس کے اصل کام میں حرج نہ ہو۔اور افسران کی اجازت ہو۔اللہ تعالٰی توفیق دے کہ اسی کہ خوشی ہمارے مد نظر ہو۔اور دنیا کی امتعہ ہمارے مد نظر نہ ہوں۔ہمیں وہی انعام مد نظر ہوں جو اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم میں بیان کئے گئے ہیں۔جب دوسرے خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا۔جمعہ کے دن ہمارے پاس خطوط آ جاتے ہیں۔جن میں جنازوں کی درخواست ہوتی ہے۔میں نے ایک مدت کے غور کے بعد سمجھا ہے کہ کہیں آئندہ اس کے متعلق یہی خیال نہ ہو جائے کہ جمعہ کی نماز کے بعد جنازہ پڑھنا بھی سنت ہے۔جنازہ غائب پڑھنا جائز ہے مگر جبکہ رسم کے طور پر نہ ہو۔حضرت صاحب کے زمانہ میں باہر فوت ہونے والوں کے جنازہ کے متعلق یہاں لکھنے کی ضرورت تھی۔کیونکہ اس وقت باہر جماعتیں اس قدر پھیلی ہوئی نہ تھیں۔اور اکے دکے احمدی تھے۔اس لئے جب کوئی فوت ہو تا تھا تو اس کے جنازہ کے لئے لکھا جاتا تھا۔مگر اب وہ ضرورت ختم ہو گئی ہے۔اور عموما" ہر ایک احمدی مرنے والے کو اپنے مرتبہ کے مطابق جنازہ پڑھنے والے احمدی میسر آجاتے ہیں۔اس لئے اب ضرورت ہے کہ اس رسم کو مٹایا جاوے بعض لوگ اخبار میں لکھوا دیتے ہیں لیکن اگر یہی طریق رہا تو ایک نیا مذہب بن جائے گا۔اب میرا ارادہ ہے کہ دو قسم کے باہر فوت ہونے والوں کے جنازے پڑھے جایا کریں۔ایک ایسا شخص جو باہر فوت ہوا ہو اور اس کا اور کوئی احمدی جنازہ پڑھنے والا نہ ہو۔دوسرا وہ شخص جو جماعت کا اتنا محسن ہو کہ اس کے احسانات کی وجہ سے جماعت پر فرض ہو کہ اس کا جنازہ پڑھے۔