خطبات محمود (جلد 7) — Page 396
۳۹۶ افسر دفتر کے دروازے بند کر کے اندر کمیٹی کر رہے ہیں۔اس نے سمجھا کہ جلسہ قریب ہے چندہ کے لئے پوچھ رہے ہوں گے اس نے جھٹ ایک رقعہ لکھا اور طاقی کے سوراخ میں سے اندر ڈال دیا کہ ایک مہینہ کی تنخواہ میں بھی چندہ میں دیتا ہوں لیکن واقعہ یہ تھا کہ افسر لنگر خانہ اس وقت ایک کارکن کی غلطی کی تحقیقات کر رہے تھے۔اس نے خیال کیا کہ مجھے غریب سمجھ کر اندر نہیں بلایا گیا میں کہیں پیچھے نہ رہ جاؤں۔لیکن یہ کس قدر دل کو خوش کرنے والی اور یقین اور ایمان کی بات ہے مگر یہ ایک لطیفہ ہے۔اور اس میں ایک نکتہ بھی ہے کہ جب انسان خدا کو مقدم کر لیتا ہے تو پھر وہ اس کے راستہ میں خرچ کرنے سے گھبراتا نہیں۔خواہ وہ کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو۔تو صحابہ تجارت بھی کرتے تھے۔اور زراعت بھی کرتے تھے۔لیکن دین ان کو مقدم تھا۔اور دین کے کام میں کبھی سوال نہیں کرتے تھے۔اور دنیا ان کو دین کے کام سے روک نہیں سکتی تھی۔نہیں تھا کہ ان کو تجارت یا کوئی کام کرنا نہیں آتا تھا۔چنانچہ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت عبد الرحمان بن عوف نے ایک دفعہ کئی ہزار اونٹ خریدے جب وہ ہزاروں اونٹوں کا ایک وقت میں سودا کر سکتے تھے۔تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے پاس لاکھوں ہی روپیہ ہونگے۔چنانچہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کے گھر میں کئی کروڑ روپیہ تھا۔۳؎ وہ اونٹ انہوں نے تجارت کے لئے خریدے تھے اور فوراً ہی بک گئے۔اور سودا اسی طرح ہوا کہ جس قیمت پر انہوں نے خریدے تھے اسی پر بیچ دئے۔مگر عقال کے بغیر کسی نے کہا۔آپ کو کیا نفع رہا ہے انہوں نے کہا اتنے ہزار عقال جتنے ہزار اونٹ ہیں نفع میں آئے کیونکہ میں نے سودا مع عقال (اونٹ باندھنے کی رسی) کیا تھا اور بیچے بغیر عقال کے ہیں اور اسی طرح ان کو کھڑے کھڑے نفع ہو گیا۔یہ سودا کئی لاکھ کا تھا۔اور آج کل بھی اتنا بڑا سودا بہت بڑا سودا سمجھا جاتا ہے۔غرض یہ ان کی تجارت کا حال تھا۔باوجود اس کے وہ دین میں تجارت نہ کرتے تھے بلکہ جو کام کرتے تھے خدا کے لئے کرتے تھے۔وہ دنیاوی امور میں بھی انصاف اور عدل کو نہ چھوڑتے تھے۔دو صحابیوں کا حال میں نے تو کسی کتاب میں پڑھا نہیں حضرت صاحب بیان فرمایا کرتے تھے کہ ان میں اس بات پر جھگڑا ہو رہا تھا کہ ایک اپنا گھوڑا مثلاً تین ہزار درہم پر بیچتے تھے اور جو خریدنا چاہتے تھے کہتے تھے نہیں یہ گھوڑا پانچ ہزار کا ہے۔وہ اس قدر قیمت دینے پر مصر تھے۔لیکن آج کل تو لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اگر دیکھیں خریدار اتنی زیادہ رقم دیتا ہے تو وہ فورا کہدیں کہ لو سودا پختہ ہو گیا۔اصل میں بیچنے والا واقف نہ تھا اور خریدار واقف تھا۔اس لئے وہ اس کی کم قیمت نہ دینا چاہتا تھا اور بیچنے والا اس کی زیادہ قیمت لینا دھو کہ خیال کرتا تھا۔وہ سمجھتا تھا کہ یہ مجھ پر احسان کرنا چاہتا ہے غرض یہ حالت انکی دنیاوی امور میں تھی۔پھر وہ دین میں سودا کب جائز رکھ سکتے تھے۔پس میں جماعت کے لوگوں کو سال گذرنے پر نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سبق کو یاد رکھیں۔