خطبات محمود (جلد 7) — Page 369
۳۶۹ اس کے باوجود ایک اوسط ہوتی ہے کہ اس حد تک صفائی نیت کے ساتھ جو روزہ رکھے گا اس کا روزہ مقبول ہو گا۔یہی اخلاق کی حالت ہے اس میں شبہ نہیں کہ ہر ایک انسان اخلاق کی باریکیوں کو سمجھ نہیں سکتا۔بعض حصے مخفی ہوتے ہیں اور وہ خدا کی طرف سے ان لوگوں پر کھولے جاتے ہیں جن کے اخلاق خدا تعالیٰ کے حضور میں پسندیدہ ہوتے ہیں اور وہ اخلاق قرآن اور حدیث ہی میں سے کھولے جاتے ہیں۔اور وہ اس وقت کھلتے ہیں۔جب وہ ظاہر میں نظر آنے والے اخلاق پر عمل کرتا۔اس کی حالت اس وقت اور ہوتی ہے۔اور لوگوں کی اور ہوتی ہے مگر اس مقام پر ہر ایک شخص نہیں ا ہے۔پہنچ سکتا اور ان اخلاق میں بھی ایک اوسط ہوتی ہے جس طرح ہر ایک یونیورسٹی میں ایک اوسط نمبروں کی ہوتی ہے جو اتنے نمبر حاصل کر لے وہ پاس سمجھا جاتا ہے اور جو اتنے نمبر حاصل نہ کر سکے اس کو پاس نہیں سمجھا جاتا۔اسی طرح ایک انسان خدا سے تعلق پیدا نہیں کر سکتا۔اگر اس میں اس اوسط تک اخلاق نہ ہوں۔اور یہ ممکن ہے کہ وہ بہت اعلیٰ درجہ کے اخلاق نہ رکھتا ہو مگر خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق پیدا ہو جائے اس لئے مومن کا فرض ہے کہ اپنے اندر کم از کم اوسط اخلاق پیدا کرے۔اور اس پر وہ سہولت سے قابو پا سکتا ہے اور جو باریک اخلاق ہیں وہ بعد میں اس پر نازل کئے جاتے ہیں۔مثلاً یہی کہ فلاں شخص سے کیا معاملہ کرنا چاہیئے فلاں سے کیا۔مگر یہ اصولی باتیں نہیں ہوتیں۔ان کا افراد سے تعلق ہوتا ہے۔جو باتیں موٹی ہیں اور اصولا" نہایت ضروری ہیں۔اور ان پر انسان قبضہ پا سکتا ہے اور عام اخلاقی نقائص کو ان کے ذریعہ دور کیا جا سکتا ہے ان میں سے ایک بہت اہم اور نہایت ضروری یہ ہے کہ زبان کو سنبھال کر رکھا جائے۔یہ بات کبھی بھی میری سمجھ میں نہیں آتی کہ گالیاں لوگ کیوں دیتے ہیں سوائے اس کے کہ یہ ایک کمزوری کی علامت ہے کمزور طبیعت آدمی اپنے جوش پر قابو نہ پاکر اس لغو طریق سے اس کا اظہار کرتا ہے۔اور اس کا بیماری سے تعلق ہے۔بعض لوگ بلا بیماری کے بھی گالیاں دیتے ہیں۔اور یہ حالت اور بھی زیادہ قابل ملامت ہے۔کیونکہ ان لوگوں کے لئے گالی دینے کا جائز یا ناجائز کوئی بھی محرک نہیں ہوتا یہ لوگ بہ نسبت اول الذکر کے اخلاق فاضلہ سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔یاد رکھو کہ تم لوگوں میں قبولیت حاصل نہیں کر سکتے جب تک اخلاق حسنہ تمہارے اندر پیدا نہ ہوں۔تمہارے روزے ایک ہندو کی نظر میں بھوکے مرنا اور تمہارا حج ایک کھیل ہوگا۔کیونکہ وہ روزے اور حج کی خوبی کو سمجھ نہیں سکتا۔تمہارا حج کے لئے جانا اور اونٹوں پر دھکے کھانا ایک پتھر کے بنے ہوئے مکان کے گرد سات بار چکر لگا کے ایک میدان میں جاکر دعا کرنا ایک کھلونا سمجھا جائے گا۔اور یہ ایک عیسائی کے نزدیک تمسخر ہو گا۔وہ لوگ تمہاری ان عبادتوں سے