خطبات محمود (جلد 7) — Page 346
۳۶ ہے مستحق کر گردن اٹھائی آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت میرے دل میں آیا کہ میں کہوں کہ ہاں وہ شخص ہے کہ جس کا باپ اسلام کی طرف سے لڑا۔اور وہ خود بھی اسلام کی طرف سے لڑا۔جبکہ تم اور تمہارا باپ کافروں کی طرف سے لڑ رہے تھے مگر میں اس خیال سے خاموش رہا کہ مسلمانوں میں تفرقہ نہ پڑ جائے۔ہے۔یہ وہ شخص ہیں جن کو لوگوں نے خلافت کے لئے اس وقت پیش کیا۔جبکہ معاویہؓ اور حضرت علی کی جنگ تھی۔اور تجویز کی گئی تھی کہ حضرت علی کو برطرف کر کے ان کو خلیفہ بنایا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسا شخص اگر بولتا تو کئی اسلامی ممالک اس کے ساتھ ہو جاتے مگر اس نے بادشاہت پر نظر نہ کی اور وحدت اور اتفاق کو مقدم سمجھا۔پھر یہ بات ہے کہ جب تک تم میں منافق ہیں۔وہ وحدت کے راستہ میں روک ہیں۔وحدت کے لئے ضروری ہے کہ منافقوں کو نکالا جائے۔منافق کا سلسلہ سے کاٹنا اپنے اہم فرائض میں سے سمجھو۔ترقیات کے لئے ضروری ہے کہ منافق کا بھانڈا پھوڑا جائے۔اور ان کا کھوج لگایا جائے۔قرآن کریم نے بتایا ہے کہ صحابہ کے وقت میں منافقوں کی ذرہ ذرہ سی باتیں رسول کریم کو پہنچتی تھیں۔اور اسی لئے منافق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے تھے۔"موانن" (التوبة ) اس کا کا تو سارا جسم بھی کان ہی کان بن گیا ہے۔جب تک معلوم نہ ہو کہ کون کون منافق ہے۔اتحاد کی نگرانی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ لوگ فتنہ ڈالتے رہتے ہیں۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے نفسوں کو آمادہ کرو کہ خدا کی طرف سے جو آزمائش آئے اس میں پورے اترو اور اس پر راضی ہو جاؤ۔ابھی پچھلے دنوں چندوں کے لئے کہا گیا تھا۔جن لوگوں کے دلوں میں کچھ تکلیف محسوس ہوئی ہے وہ سمجھیں کہ وہ پیچھے ہیں۔ابھی وقت آتا ہے کہ اس سے زیادہ مانگا جائے گا۔اور جو لوگ نماز با جماعت میں ست ہیں۔وہ بھی سمجھیں کہ وہ بہت پیچھے ہیں۔اور نماز باجماعت میں سستی میں ایک نفاق کا شعبہ ہے۔دوسری نصیحت یہ ہے کہ خواہ کوئی قربانی ہو۔جب تک وحدت نہ ہو وہ قربانی کچھ نہیں کر سکتی۔اور وحدت کے قیام کے لئے منافقوں کی خبرداری رکھو۔اور ان کے متعلق اطلاع دو۔یہ نصیحتیں ہیں ان کو یاد رکھو اور ان پر عمل کرو۔خدا تعالی تمہیں کامیاب کرے۔جب دوسرے خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ ایک اور بات ہے۔آج ایک خط آیا ہے جو ایک علاقے کے بھائیوں کے متعلق وحشت ناک خبر ہے ابھی یہ افواہ ہے۔اور خط لکھنے والا وہاں کا رہنے والا نہیں اس لئے میں اس کو مخفی رکھتا ہوں جب تک کہ اس کے متعلق صحیح معلوم ہو۔چاہئیے کہ آپ لوگ دعا کریں کہ اگر یہ صحیح ہو اور کوئی فتنہ ہو تو اللہ تعالی اس فتنہ کو دور کرے۔ان فتنہ انگیزوں کو ہدایت دے یا اپنی گرفت میں لے۔تاکہ ہمارا راستہ بند نہ ہو۔اگر یہ خبر غلط ہے تو