خطبات محمود (جلد 7) — Page 307
بہت زیادہ دیتا ہے۔تو وہ کیوں خدا کو نہیں پا سکتا۔ہم کہتے ہیں۔ہر ایک چیز کے ملنے کے لئے مقررہ ذرائع ہوتے ہیں۔اور جب تک ان کو نہ استعمال کیا جائے وہ چیز نہیں مل سکتی مثلاً پانچ روپیہ اگر منی آرڈر کرنے ہوں تو ان پر چار آنہ محصول مقرر ہے۔اگر کوئی شخص فارم پر کر کے سوا پانچ روپیہ ڈاک خانہ میں دے گا۔تو اس کا منی آرڈر منزل پر پہنچ جائے گا۔لیکن اگر کوئی شخص فارم پر کرنے اور ڈاک خانہ میں دینے کے بجائے تھانے میں جائے۔اور پانچ روپیہ کے ساتھ ہر محصول کی جگہ دو روپیہ وہاں دے آئے تو اس کے روپیہ نہیں پہنچ سکیں گے۔تھانہ والے اس کا روپیہ واپس کر دیں گے۔اور اگر کوئی خراب نیت کے لوگ ہوئے تو سات کے سات خود کھا جائیں گے۔اسی طرح زمین بونے کے لئے اس میں ہل چلایا جاتا اور ایک حد تک گہرا چلایا جاتا ہے۔مگر ایک شخص زمین میں ہل چلانے کے بجائے لمبے لمبے اور گہرے کنویں کھود کر ان میں بیج ڈال دے تو کیا اس کا کھیت تیار ہو جائے گا گو اس نے محنت کی اور ہل چلانے والے سے بہت زیادہ کی مگر چونکہ اس طریق کو چھوڑ دیا جو کھیت ہونے کے لئے مقرر تھا اس لئے اس کا بیج زمین میں ضائع ہو جائے گا۔چہ جائیکہ اس کا کھیت تیار ہو۔اسی طرح ایک شخص سخت گرمی میں آتا ہے۔اور کنویں سے ڈول نکال کر پانی پی لیتا ہے۔مگر دوسرا پیاسا آتا ہے۔جو دو من کی بوری اٹھا کر ایک میل تک چلا جاتا ہے اور پھر شکایت کرتا ہے کہ میں نے پہلے سے زیادہ کام کیا اور محنت اٹھائی مگر میں پیاسا ہی رہا۔تو اس کا یہ کہنا غلط ہو گا۔کیونکہ پیاس کے لئے پانی کنویں سے نکال کر پینا ایک ذریعہ ہے۔لیکن یہ کوئی ذریعہ نہیں کہ پیاسا بوریاں اٹھا کر بھاگتا پھرے۔پس جو طریق کسی کام کے کرنے کا ہے۔اسی طریق پر کیا جائے گا تو ہو گا ورنہ نہیں ہو گا۔اسی طرح مذاہب کا حال ہے۔بعض مذاہب میں اسلام کی نسبت بہت مشقتیں اور محنتیں ہیں مگر ان کا نتیجہ کچھ نہیں۔مثلاً ہندو مذہب ہے۔اس میں لوگ الٹے لٹکتے ہیں اور الٹے لٹکے ہوئے ہی آٹا گوندھتے اور اسی حالت میں روٹی پکاتے ہیں۔اور اس کو عبادت سمجھتے ہیں۔مگر کیا وہ اس سے خدا کی رضا اور جنت کے اعلیٰ مقام پالیں گے؟ نہیں۔کیونکہ غلط طریق سے جو کام کیا جاتا ہے اس میں کامیابی نہیں ہوتی۔پس اگر کوئی غلط طریق پر خدا تعالیٰ کے حضور جانا چاہیے گا تو رد کیا جائے گا۔ہماری جماعت میں خواہش ترقی ہے خواہ دینی ترقی ہو یا دنیاوی۔مگر اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ صحیح طریق پر عمل ہو۔بعض حالات کی وجہ سے یہاں سودے سلف پر بعض روکیں عائد کی گئی ہیں۔کیونکہ ان حالات نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم ایسا کریں۔اگر وہ حالات دور ہو جائیں تو یہ روئیں نہیں رہ سکتیں۔گویا یہ روکیں عارضی ہیں۔ان کی وجہ سے اگر کوئی فائدہ آتا ہے تو وہ حقیقی فائدہ نہیں۔اصل میں فائدہ وہ ہے جو اپنی لیاقت اور قابلیت سے حاصل کیا جائے۔مگر لوگ