خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 255

۲۵۵ ماننے سے انسان خدا کو ناراض کر لیتا ہے۔لیکن بعض باتیں انہیں بھی دوسروں کی ماننی پڑتی ہیں۔مثلاً جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو حکیم یا ڈاکٹر جس طرح کہتا ہے اس طرح کرتے ہیں۔اگر اس کے خلاف کریں تو تکلیف اٹھائیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیثوں میں ذکر آتا ہے کہ آپ کہیں تشریف لے جا رہے تھے کہ زمیندارہ کام ہوتا دیکھ کر فرمایا اس طرح کرو۔اسی طرح کر دیا گیا لیکن پھل نہ لگا۔جب یہ بات رسول کریم کے حضور عرض کی گئی۔تو آپ نے فرمایا۔میں نے تو اپنا خیال بیان کیا تھا کہ شاید اس طرح اچھا ہو۔ا۔مگر ان لوگوں نے سمجھا خدا کے رسول نے جس طرح کہا ہے اس طرح کرنا چاہئیے مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگوں میں مشورہ لیتے۔اور اسی طرح کرتے جس طرح فیصلہ ہوتا۔پس جب اللہ کے نبی بھی محتاج ہیں۔اس بات کے کہ وہ دوسروں سے مشورہ لیں۔اور وہ بھی دوسروں کی رائے قبول کر لیتے ہیں۔تو کسی اور کا کیا حق ہے کہ اپنی ہی رائے منوائے اور جب تک اس کی رائے کے مطابق فیصلہ نہ ہو اس وقت تک منظور نہ کرے۔اپنی رائے پر اسی وقت تک زور دینا چاہئیے جب تک کہ کوئی صریح خطرہ اور نقصان نظر آتا ہو۔لیکن اگر عام طور پر وہ رائے قبول نہ کی جائے تو یہی خیال کر لینا چاہئیے کہ میری رائے غلط ہے۔جب تک لوگوں میں یہ بات پیدا نہ ہو جائے اس وقت تک اس جگہ بنیاد نہیں رکھی جا سکتی جہاں عظیم الشان عمارت بن سکے۔کیونکہ یہ ترقی کا پہلا قدم ہے۔دوسروں سے اپنی رائے منوانا اتنی قابلیت کا کام نہیں ہے جتنی قابلیت کا اپنی رائے کو قربان کرنا ہے۔اور جب تک یہ مادہ پیدا نہ ہو کہ جب کوئی ایسا مشورہ ہو جس پر جماعت کا اکثر حصہ متفق ہو۔یا وہ لوگ جن کے سپرد فیصلہ کرنا ہو وہ متفق ہوں۔اس کو کامیاب بنانے کے لئے وہ لوگ بھی جن کی رائے اس کے خلاف ہو اسی طرح کوشش کریں جس طرح دوسرے کریں۔اس وقت تک ہم نہیں کہہ سکتے کہ جماعت خطرات سے محفوظ ہو گئی ہے اس لئے میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ اپنی رائے پر مصر نہ ہوں۔میں نے خود با رہا تجربہ کیا ہے کہ سمجھا گیا ایک بات درست ہے لیکن اس کے متعلق مشورہ لیا تو معلوم ہوا یا تو وہ رائے غلط تھی اور اگر غلط نہیں تھی تو اس کے متعلق کئی نئی باتیں نکل آئیں۔جنہیں میں نے ہمیشہ خوشی سے قبول کیا۔اور ان کا قبول کرنا مفید ثابت ہوا۔پھر ایسا بھی ہوا ہے کہ میں نے لوگوں کے اصرار کو دیکھ کر ایک بات کو قبول کر لیا جو غلط تھی۔اور اس کا نتیجہ برا نکلا۔مگر اس سے بھی نیک ہی اثر ہوا۔کیونکہ جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ جس کو خدا نے حق دیا ہے کہ دوسروں سے اپنی بات منوائے وہ دوسروں کی بات مانتا ہے تو ان کے لئے بہت زیادہ ضروری ہے کہ مانیں۔غرض مشورہ لینے اور اس پر خوشی سے عمل کرنے میں برکت ہے۔اور اس کے برعکس اپنی رائے پر اصرار کرنے اور جو فیصلہ ہو جائے اس کے خلاف کرنے اور