خطبات محمود (جلد 7) — Page 254
۲۵۳ رائے قبول کرتا ہے تو وہ اپنے افسروں کی بات بھی ضرور قبول کرتا ہے۔اس سے اطاعت کی عادت پڑتی ہے اور خوشی سے انسان بڑوں کی بات مان سکتا ہے کیونکہ وہ عادی ہو جاتا ہے۔لیکن جو مشورہ نہیں کرتا اس کے اندر اطاعت کا مادہ نہیں پیدا ہوتا۔ایسے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ان کے مقابلہ میں جن کے وہ ماتحت ہوں خود سری سے کام لیتے ہیں۔اور کام اچھی طرح نہیں کرتے مگر یورپ کے لوگ جو مشورہ کرتے ہیں دیکھا گیا ہے کہ اطاعت اور فرمانبرداری کا پورا حق ادا کرتے ہیں۔ایک جرنیل کو حکم ملتا ہے کہ فلاں جگہ حملہ کرنا ہے۔اگر اس کی رائے اس کے خلاف ہو تو وہ کہتا ہے۔حملہ نہیں کرنا چاہئیے اس میں یہ نقصان ہو گا۔لیکن اگر اعلیٰ افسر کہتے ہیں۔نہیں ضرور کرتا ہے تو پھر وہ حملہ کرتا ہے۔اور اپنی طرف سے ذرا کو تاہی نہیں کرتا جتنے ذرائع وہ استعمال کر سکتا ہے کرتا ہے تاکہ حملہ کامیاب ہو۔اس کی ہمیشہ مثالیں ملتی رہتی ہیں۔کہ گورنمنٹ مشورہ لیتی ہے۔فلاں کام کس طرح کرنا چاہیئے۔بعض لوگ مصر ہوتے ہیں کہ اس طرح کیا جائے۔لیکن گورنمنٹ جو فیصلہ کرتی ہے وہ بعض کی رائے کے خلاف ہوتا ہے۔اس پر یہ نہیں ہو تا کہ جن کی رائے کے خلاف ہو وہ اس فیصلہ کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالیں۔بلکہ وہ بھی ایسی ہی تن دہی سے اس پر عمل کرتے ہیں۔کہ گویا ان کی اپنی تجویز ہے۔اور چاہے اس میں کامیابی نہ ہو مگر وہ اپنی طرف سے پورا زور لگا دیتے ہیں۔لیکن میں دیکھتا ہوں ہمارے لوگوں میں یہ بد عادت ہے کہ بعض لوگ جب اپنی رائے کے خلاف فیصلہ سنتے ہیں تو پھر یہی نہیں کہ اصل فیصلہ کے مطابق کام نہیں کرتے بلکہ وہ کہتے ہیں ہم نے جو کہا تھا کہ اس طرح کرنے میں خرابی ہوگی اور یہ کہہ کر وہ پورا زور لگاتے ہیں کہ خرابی ہو۔گویا کام کرنا ان کے مد نظر نہیں ہوتا بلکہ اپنے رائے کو سچا ثابت کرنا مد نظر ہوتا ہے اور یہ اتنا بڑا نقص ہے کہ جس کے نہایت خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔بیسیوں سلطنتیں اسی لئے تباہ ہو گئیں کہ کسی مشورہ میں جن لوگوں کی رائے خلاف تھی انہوں نے خلاف کوشش کی۔اور میں افسوس کرتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی ایک حد تک یہ بات پائی جاتی ہے۔جب مشورہ کیا جاتا ہے اور کسی کی 99 باتیں مانی جاتی ہیں۔مگر ایک نہیں مانی جاتی۔تو وہ اس کو یاد رکھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ افسروں کو زک دیگر بتاؤں کہ جو میں کہتا تھا وہی درست تھا۔اس قسم کی مثالیں میرے سامنے لائی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کارکن اپنی رائے کو دین پر مقدم سمجھتے ہیں۔ان کا یہ فشاء نہیں ہو تا کہ خدا کا کام عمدگی سے ہو۔بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری عزت اور آبرو ہو۔اور جو ہم کہتے تھے وہ صحیح ثابت ہو۔جب تک اس عادت کو بیخ دین سے نہ اکھاڑ دیا جائے حقیقی ترقی محال ہے۔کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنے رائے سے سب کام کر سکے۔دیکھو انبیاء کی یہ شان ہوتی ہے کہ بعض باتوں میں ان کی رائے نہ