خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 250

جس کے تمہیں غرور تھا ساتھ لیکر آئے۔کیا وہ مال جس پر تمہیں گھمنڈ تھا۔تمہارے پاس ہے۔تمہارا جتھہ اور مال کہاں ہے۔دنیا میں جب تم پیدا ہوئے تھے۔تو اکیلے خالی ہاتھ پیدا ہوئے تھے۔پھر خدا نے تمہیں سب کچھ دیا تھا جس پر تم نے تکبر کر کے خدا کے نبی کا انکار کر دیا۔آج دیکھو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو عزت کی اس اصل جگہ میں اپنی امت کو لیکر آئے گا۔مگر تم اکیلے اکیلے ہی آئے ہو۔جو چیزیں بڑائی کی تمہارے پاس تھیں۔انہیں تم پیچھے ہی چھوڑ آئے۔ہم نے تمہیں مال و دولت عزیز رشتہ دار اس لئے دئے تھے کہ ان کے ساتھ مل کر تم خدا کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو۔مگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔بلکہ الٹے اور زیادہ بدیوں میں مبتلا ہو گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حقیقی بڑائی حاصل کرنے کا موقع تمہارے ہاتھ سے جاتا رہا۔اور آج تم ذلیل و رسوا ہو گئے۔لقد تقطع بينكم وضل عنكم ما كنتم تزعمون تحقیق تمہارے تمام تعلقات کٹ گئے۔اور تمہارے سارے دعوے باطل ہو گئے۔اگر تم اس رسول کو مان لیتے تو ہمارے پاس عزت کے ساتھ آتے۔لیکن تم نے اس کو نہ مانا اور عقل سے خدا کا اندازہ لگانے لگے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم جہنم میں جا پڑے۔جس طرح ایک چھوٹا بچہ کہے کہ میں پہاڑ پر خود چلوں گا۔مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ غار میں گر کر ہلاک ہو جائے گا۔اسی طرح تم نے کہا اگر تم خدا کے نبی کی انگلی پکڑ لیتے۔اور اس کی اطاعت کرتے تو آج تمہاری یہ حالت کیوں ہوتی۔الفضل ۲۴ / اپریل ۱۹۲۲ء) ا المومن : ۳۵