خطبات محمود (جلد 7) — Page 243
علام کنیم ۳ 46 کلام الہی کی ضرورت و اہمیت (فرموده ۱۴ر اپریل ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج میں نے اس خیال سے کہ حلق کی بیماری کی وجہ سے عرصہ ہو گیا ہے کہ قرآن کریم کا درس دینے کا موقع نہیں ملا۔بطور تیرک آج کے خطبہ میں بجائے عام مضمون کے قرآن کریم کے ایک رکوع کا درس دینے کا ارادہ کیا ہے۔کیونکہ درس چھوڑے ہوئے لمبا عرصہ گزرتا جاتا ہے۔چونکہ جس طرح انسانوں میں زندگی ہوتی ہے۔اسی طرح کاموں میں بھی زندگی ہوتی ہے۔اور خیال نہ رکھنے سے وہ مٹتی چلی جاتی ہے۔میں نے خیال کیا کہ اس طرح اس سلسلہ میں واسطہ اور جوڑ پیدا مداکر دوں۔اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے۔تو ممکن ہے۔یہ سلسلہ با قاعدہ ہو جائے۔اس وجہ سے آج ایک رکوع کا درس بیان کرتا ہوں۔تمام تباہیوں کی جڑ اور ان کا منبع ایک ہی بات ہے۔اور جتنے مذہبی اختلاف پیدا ہوئے ہیں۔اسی بات سے پیدا ہوئے ہیں کہ وما قدروا الله حق قدره انسان اللہ تعالیٰ کا اندازہ لگانے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔بھلا اللہ تعالٰی کا اندازہ بندہ کیا لگا سکتا ہے۔وہ جب ان چیزوں کا اندازہ نہیں لگا سکتا جو اس جیسی ہیں۔تو پھر اس ہستی کا کیا اندازہ لگا سکتا ہے جو نہ صرف اس جیسی نہیں بلکہ اسے پیدا کرنے والی ہے مگر بہت لوگ نادانی اور غلطی سے خدا تعالیٰ کو اپنے اندازوں سے ناپنے لگتے ہیں۔اور اپنی عقل سے اس کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ عقل انسانی اتنی محدود ہے کہ بہت محدود چیزوں سے تعلق رکھتی ہے۔اور وہ چیزیں جو نظر آنے والی ہیں۔ان کا بھی پورے طور پر اندازہ نہیں لگا سکتی۔اپنے اسی وجود کو دیکھو۔کیا اس کا اندازہ انسانی عقل نے لگا لیا ہے؟ کئی بیماریاں ایسی ہیں جنہیں پہلے لا علاج سمجھا جاتا تھا مگر اب ان کا علاج نکل آیا ہے۔کئی نئی قوتیں انسان کی ظاہر ہوتی جا رہی ہیں۔آج سے سو سال پہلے انسان میں جو قوتیں تھیں اب ان سے زیادہ ہیں۔اور آج سے سو سال نہیں گذریں گے کہ اس سے بھی زیادہ ہونگی۔خوردبین نے انسانی جسم میں ایسی ایسی باریک رگیں دکھائی ہیں کہ جن کا پہلے کسی کو خیال بھی نہ تھا۔جو اس ہی لے لو۔حواس خمسہ مشہور ہیں مگر