خطبات محمود (جلد 7) — Page 231
۲۳۱ کے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں یا اس کے لئے اس کا حاصل کرنا ضروری نہیں۔اسلام میں کفارہ نہیں یہ نہیں کہ ایک کامیاب ہو گیا تو دوسروں کو اس کی کامیابی سپرد کر دی جائے گی۔جہاں اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ ایک جرم کرے تو دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔اسی طرح یہ بھی جائز نہیں رکھتا کہ ایک اعمال کرے تو دوسرے کو اس میں سے حصہ مل جائے۔حضرت مسیح کہتے ہیں میرے پیچھے وہی آسکتا ہے۔جو اپنی صلیب آپ اٹھائے۔یعنی خود عمل کرے۔اسلام بھی یہی کہتا ہے جو حضرت مسیح نے تمثیلی رنگ میں کہا کہ وہی انسان اپنے مقصد کو پہنچ سکتا ہے جو اپنی صلیب آپ اٹھائے۔دوسرے کے اٹھانے سے نہیں پہنچ سکتا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ترقی یا آپ کے صحابہ کی ترقی کی وجہ سے دوسرے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا کام پورا ہو گیا۔بلکہ ہر ایک کو اس کے لئے خود کوشش کرنی چاہئیے۔اور جب تک ہر ایک کوشاں نہ ہوگا اس میں کامیابی نہیں ہوگی۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگ ناموں سے دھو کہ کھاتے ہیں۔وہ جب یہ سنتے یا پڑھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کام کیا تو کہتے ہیں۔وہ تو خدا کے رسول تھے جو کام انہوں نے نے کیا وہ ہمارے کرنے کا نہیں ہے۔گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا تعالٰی نے رسول کریم پر تو اس کام کے کرنے کا بوجھ رکھا تھا اور نعوذ باللہ ان پر ناراضگی تھی کہ ان کے لئے شرط لگا دی کہ یہ کام کرو گے تو جنت ملے گی۔مگر یہ خدا کے ایسے پیارے ہیں۔کہ ان کے لئے خدا نے کوئی کام نہیں رکھا۔بجائے اس کے کہ اگر یہ کہتے کہ ہمارے لئے خدا تعالٰی نے یہ کام رکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے آزاد تھے۔تو اگر چہ یہ بھی غلط ہو تا مگر ایک بات تو تھی۔چنانچہ صحابہ میں سے جو ابھی اعلیٰ مقام پر نہ پہنچے تھے انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ آپ کیوں اس قدر عبادت کرتے ہیں۔آپ تو خدا کے پیارے اور محبوب ہیں۔یہ ایسی بات ہے جو بظاہر کہی جا سکتی ہے مگر یہ بھی غلط تھی۔کہ آپ کو عبادت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔مگر یہ غلطی ایسی تھی کہ جس کے متعلق ٹھوکر لگ سکتی تھی۔اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسے مقام پہنچ گیا ہوں کہ مجھے اعمال کی ضرورت نہیں ہے تو میرا کام ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی اور زیادہ عبادت کروں کہ خدا تعالیٰ کا مجھ پر یہ احسان ہوا ہے۔اور اگر مجھے اعمال کی ضرورت ہے۔تو بھی میرا کام ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کروں تاکہ مجھ پر اور فضل نازل ہوں۔۲۔اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتا دیا کہ دونوں حالتوں میں انسان باہر نہیں رہ سکتا۔جب تک اسے خاص مقام حاصل نہیں ہوتا۔اس وقت تک تو اس لئے لگا رہے کہ وہ مقام حاصل ہو۔اور جب حاصل ہو جائے تو اس لئے لگا رہے۔کہ خدا تعالیٰ کا یہ مجھ پر فضل ہوا ہے۔پس خدا تعالی کا فضل ہونے پر کام اور زیادہ کرنا چاہئیے۔نہ کہ چھوڑ دینا چاہیئے۔رسول کریم