خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 227

۲۲۷ اس وقت تک قائم رہ سکے دنیا میں سب سے بڑا جو نبی آیا اس کا پیدا کیا ہوا جوش بھی ایک ہزار سال سے آگے نہ بڑھا۔اس لئے اگر ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے یہی زمانہ ہے۔مگر افسوس ہے کہ ہمارے علماء تک ادھر پورے متوجہ نہیں۔میں نے پچھلے سال قادیان کا علاقہ تقسیم کیا تھا۔مگر اس میں کوئی کام نہیں ہوا۔حالانکہ یہ وقت ہے کہ اگر ہم لوگوں کو جذب کرنا چاہیں تو بہت جلد جذب کرلیں گے۔ورنہ پھر کروڑوں روپیہ سے بھی ہم یہ بات حاصل نہیں کر سکیں گے۔میں نے اس سال پھر تجویز کی ہے۔کہ کام کو دیکھا جائے۔اس کے ماتحت تبلیغ کے لئے تین حلقہ بنائے گئے ہیں۔لاہور، گوجرانوالہ لائل پور کا ایک حلقہ شاہ پور گجرات جہلم ایک حلقہ اس وقت ہمارے پاس دو مبلغ فارغ ہیں۔مولوی غلام رسول صاحب راجیکی اور مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری پہلا حلقہ مولوی راجیکی صاحب کے اور دوسرے مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری کے اور ضلع گورداسپور حافظ روشن علی صاحب کے سپرد کیا جائے۔حافظ صاحب کو گو فارغ نہیں کیا جا سکتا۔مگر ان کے ساتھ مبلغین کلاس کے طالب علم ہیں۔اس لئے میری عقل کہتی ہے۔کہ جس قدر ان کے پاس وقت ہے ایک سال میں ہی اس ضلع میں کام کر سکتے ہیں۔ان علاقوں کی تقسیم سے یہ غرض ہے کہ آہستہ آہستہ تمام ملک کو اس طرح تبلیغ کے لئے تقسیم کر دیا جائے۔جس طرح گورنمنٹ ضلع اور کمشنریاں بناتی ہے۔اور ان میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر مقرر کرتی ہے۔جو اپنے علاقہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔اسی طرح یہ مبلغ اپنے اپنے ضلع کے ذمہ دار ہوں گے۔اور ان کا فرض ہو گا۔کہ وہ اس مدت میں ان ضلعوں کا نقشہ بدل دیں۔مگر یاد رکھو جو مبلغ رپورٹیں لکھنے اور واہ واہ کے لئے کام کرتا ہے۔وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتا۔وہی مبلغ کامیاب ہو گا جو اپنے اختیارات کو خدا کی طرف سے آئے ہوئے اختیار سمجھ کر کام کرے گا۔اور اپنے دل و دماغ پر فیضان الہی دیکھے گا۔جو شخص دوسروں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتا ہے وہ اللہ کا بندہ نہیں لوگوں کا بندہ ہوتا ہے۔اس خوف سے کوئی کام نہ کیا جائے کہ اگر نہ کیا تو خلیفہ صاحب ناراض ہوں گے۔بلکہ اگر کوئی کام چھوڑا جائے یا کیا جائے تو وہ خدا کے خوف اور خدا کی رضا کے لئے ہو۔یہ درمیانی واسطے خلفاء وغیرہ تو حسن انتظام کے لئے ہوتے ہیں پس میں تینوں حلقوں کے افسروں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے کام کے لئے چونکہ خدا کے حضور جواب دہ ہونگے اس لئے ایسے رنگ میں کام کریں کہ خدا خوش ہو جائے۔اب ضرورت ہے کہ تبلیغ کے لئے ایک جنون کی سی حالت پیدا کی جائے۔ایسی حالت جس کی وجہ سے نبیوں کے مخالف ان کو مجنوں کہہ دیا کرتے تھے۔بعض لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ جب وہ باہر جائیں تو کئی ایک ہوں اور ایک گروہ کی شکل میں جائیں مگر یہ کمزوری ہے۔مبلغ کی حیثیت سفیر کی حیثیت نہیں ہوتی۔سفیر کے لئے بہت سے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔مبلغ اکیلا ہی کافی ہوتا ہے۔ایک وقت میں حضرت