خطبات محمود (جلد 7) — Page 226
43 پنجاب میں دعوت الی اللہ (فرموده ۳ مارچ ۱۹۲۲ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔بوجہ اس کے کہ لاہور میں مجھے کثرت سے بولنا پڑا اور رات کے ایک ایک دو دو بجے تک برابر باتیں ہوتی رہیں۔گلے میں تکلیف زیادہ ہو گئی ہے۔میں زیادہ بیان نہیں کر سکتا اور ممکن ہے کہ آواز بھی دور تک نہ جائے مگر چند مختصر نصائح اپنی جماعت کے لوگوں کو کرتا ہوں۔میں نے غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہماری جماعت تبلیغ کے رنگ میں بہت پیچھے ہے۔چندے کے معالمہ میں ہم ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ کہا جا سکتا ہے۔کہ وہ ہماری ہمت پر دلالت کرتا ہے مگر تبلیغ کے متعلق یہ بات نہیں۔اس بارے میں ہمیں جو مقام حاصل ہے اس کو ابتدائی بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بہت ہی کم ہیں جو توجہ کرتے ہیں۔پھر بہت ہی کم ہیں جو اصول تبلیغ سے واقف ہیں۔اور بہت کم ہیں۔جو واقفیت بہم پہنچانے کے شائق ہیں۔اور بہت ہی کم ہیں جو ان اصول کو استعمال کرتے ہیں۔گویا وہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ہم نے اپنے ذمہ جو کام لیا ہے۔اس کے مقابلہ میں ہماری کوشش حقیر ہے۔اور اگر یہی حالت جاری رہی تو لاکھوں سال ہماری ترقی کے لئے چاہئیں۔مگر اتنے عرصہ کے لئے جوش قائم نہیں رکھا جا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے مسلمانوں میں جو جوش تھا وہ اپنی نظیر آپ ہی تھا۔مگر اب دیکھ لو کہ ۱۳ سو سال کے بعد اس جوش کا نام و نشان بھی باقی نہیں۔کیا اس زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے۔کہ ۱۳ سو سال پہلے کے مسلمانوں میں کوئی جوش اور ولولہ تھا۔احادیث و تاریخ میں ان کے متعلق ہم جو کچھ پڑھتے ہیں اگر موجودہ مسلمانوں کی حالت پر قیاس کیا جائے تو مبالغہ معلوم ہوگا۔یہی فرق ہوتا ہے نبی کے قریب اور بعد کے زمانہ کے لوگوں میں۔سورج کے غروب ہونے کے بعد جس قدر دیر گذرتی جائے۔اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے پس جس رفتار سے ہم ترقی کر رہے ہیں اس کے لئے لاکھوں سال چاہئیں۔مگر یہ دنیا میں سب سے پہلا تجربہ ہو گا۔کہ ہمارا جوش