خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 221

۲۲۱ 42 تو کل کرنے والا کبھی ضائع نہیں ہوتا فرموده ۲۴ فروری ۱۹۲۲ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان اپنے بندوں پر ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے باوجود کمزور ہونے کے اس کے احسان کے ماتحت اس کی دین کی اشاعت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ورنہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتے ہیں۔وہ باوجود طاقت و قوت کے اور حکومت و مال کے خدمت دین سے محروم رہ جاتے ہیں۔میرے نزدیک ہماری جماعت کے لئے ان ضروری مسائل میں سے جنہیں یاد رکھنا چاہیے۔ایک یہ بھی ہے کہ وہ خدا کی قوت پر بھروسہ کریں۔اپنی طاقت پر نہ جائیں میں نے اپنے مبلغوں کو بار ہا بتایا اور میں نے خود با رہا تجربہ کیا ہے۔کہ جب خدا پر توکل کیا اور اپنے وجود کی نفی کی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے ایسے فیضان جاری ہوئے ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے با رہا جب سامان نے جواب دے دیا۔موقع پر خدا تعالیٰ نے وہ کچھ دکھایا۔اور ایسے نازک موقع پر ایسی باتیں بتائیں جو دوسروں کے لئے ہی نہیں اپنے لئے بھی حیرت میں ڈالنے والی تھی۔متوکل کی مثال ایسے بچے کی ہے جو ماں کی گود میں ہو۔اس بچے کی نہیں جو چلتا پھرتا ہو۔چلنے پھرنے والے بچے کے لئے ماں کی محبت جوش مارے گی وہ اس کو کھانے پینے کے لئے دے گی مگر جو اس کی گود میں ہو اس کا اس کو بہت خیال ہو گا۔یا یہ کہو کہ اس چھوٹے قد کے انسان کی مثال ہے جو کسی بڑے تنو مند اور قد آور انسان کے کندھے پر سوار ہو جو تو کل کرتا ہے وہ خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔اور خدا تعالیٰ اس کے کام کو آپ درست کرتا ہے۔اسی جلسہ کے موقع پر دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے کیا کیا تین مہینہ سے مجھے کھانسی تھی۔دواؤں سے علاج نہ ہوتا تھا۔حتی کہ جلسہ کو ملتوی کرنے کا بھی خیال آیا۔چونکہ میں خیال کرتا تھا کہ بولا نہیں جائے گا۔اس لئے دوسرے دن کا مضمون پہلے دن رکھا۔لیکن آپ میں سے بہت کو معلوم ہے کہ اس دفعہ تقریر پہلی تقریروں سے زیادہ لمبے عرصہ تک ہوتی رہی۔اور عجیب بات یہ ہے کہ کھانسی کا