خطبات محمود (جلد 7) — Page 13
کرتے ان رہیں ہم جو کہتے ہیں کہ بعد انہاں مردہ زندہ نہیں کرتا تو اس کے مختص لیہ سنتے ہیں کہ خدا ؟ کہتا ہے کہ وہ یہاں مردہ زندہ نہیں کرتا واللہ اگر اس کا عمد نہ ہوتا اور وہی یہ بات نہ کہتاں تو ہم " کبھی انہ کہتے کہ وہ امرد کے سڑناہ نہیں کرتا۔نہیں خدا کو مانتے ہوئے کسی بات کی نسبت کہنا کہ نا ممکن ہے درست نہیں۔یعقوب علیہ السلام کا قول نقل فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ خدا کی رحمت سے نامید نہیں ہوا اوگرا کا فر - جب تک سنت اللہ کے خلاف نہ ہو کسی بات کو نا ممکن کہنا سراسر غلطی یہ واقعہ تھا جو گزر گیا۔لیکن خداسی کتاب قصہ کی کتاب نہیں۔بلکہ انسانوں کی ہدایت کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ یوسف کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔جس طرح یہ تمام واقعہ مجموعی صورت میں انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔اسی طرح یہ آیت جو اس تمام سورۃ کا ایک کوا ہے بھی ہر الیتا ہے۔جس طرح تمام قرآن بھی ہدایت ہے اسی طرح اس کی تہر ایک سورہ بھی ہدایت ہے۔ہر ایک سورۃ کا ہر ایک رکوع اور ہر ایک رکوع کی ہر ایک آیت اور ہر ایک کیت کا ہر ایک لفظ بھی اور یہ مختلف سلسلہ ہوتے ہیں۔اور ان میں سے ہر ایک سلسلہ ہر میں ہی ہے۔یا آئیٹ جو میں نے اب پڑھنی ہے یوسف علیہ السلام کے واقعہ کی ایک شاخ ہے۔اور ہدایت ہے۔اور یہ تمام واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیشگوئی کے ہے۔اور ابو اسماعیل کو ؟ ان کے بچا کی اولاد کا ایک واقعہ یاد دلایا ہے۔کہ تمہارا بھی ایک یوسف ہے جس کو تم کھوارا ہے ہونا اور وطن سے نکال رہے ہو۔اس لئے ان کو ان کے بچا یعقوب کی نصیحت یاد دلائی کہ جاؤ اور تم بھی اس یوسف کی تلاش کرو۔اگرچہ تمہاری شرارت سے یوسف گم ہو گیا مگر جب تم اس کو تلاش کرو گے تو تم اس کو پالو گے۔چنانچہ مکہ والوں نے جب اس یوسف کو تلاش کیا تو اس کو پالیا۔پنی یہ یوسف کا تمام واقعہ الحضر لنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں ہوتا ہے۔مگر یہ آئین اپنی ذات میں حکمت ہے اور ہدایت ہے۔یعقوب کا یوسف گم ہو گیا تھا۔یعقوب بیٹوں کو کہتا ہے کہ تم اس کی تلاش میں گھرا مت جانا۔ایسے ہی ہر انسان کا بھی ایک یوسف ہوتا ہے۔اور ہر ایک شخص کا جو مدعا ہوتا ہے وہی اس کا یوسف ہوتا ہے۔یوسف کیا تھا یعقوب کا پیارا تھا۔ہر کام جو انسان کرتا ہے وہ اس کا یوسف ہوتا ہے۔جب اس کام میں مشکلات آجاتے ہیں۔اور مقصد دور ہو جاتا ہے۔تو گویا وہ یوسف کم ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ شخص آن مشکلات سے گھبرا کر کام چھوڑتا ہے تو وہ یوسف کو پانے سے محروم رہتا ہے۔اور اگر وہ گھبراتا نہیں تلاش و جستجو اور کوشش جاری رکھتا ہے۔تو اس کا یوسف مل جاتا ہے اور اس کا وہ کام ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دعاء کو پا لیتا ہے کی کام کرانے میں موت سے شخص یوسف کے بھائیوں کی طرح مایوس ہو کر ہمت ہار دیتے ہیں۔وہ اپنے مقصد کو نہیں پاسکتے۔مگر جو یعقوب صفت لوگ ہوتے ہیں۔وہ آخر دم تک کوشش جاری رکھتے