خطبات محمود (جلد 7) — Page 177
144 کو مان کر وہ اپنا ایسا طرز عمل قرار دیں کہ جس سے معلوم ہو سکے کہ ان کا مدعا اور مقصد کیا ہونا چاہئیے۔یہ نہیں کرتے۔ان کا ایمان ایسا افرادی رنگ کا ہوتا ہے۔جیسا چلتے چلتے راستہ میں کسی کو پیاس لگے اور وہ پانی پی لے۔اس کے پانی پینے سے اس مقصد اور مدعا پر جس کے لئے وہ گھر سے نکلا ہو۔کوئی اثر نہیں ہوتا۔یا اس طرح کہ سفر پر جاتے ہوئے رستہ میں کوئی پھل فروخت ہو رہا ہو اسے خرید لے۔اس کا اثر اس کے رستہ چلنے اور گھر سے نکلنے پر نہیں پڑے گا۔کیونکہ جو شخص کوئی مقصد قرار دے کر گھر سے نکلتا ہے۔اس کی ساری کوشش اس کے لئے ہوتی ہے۔ایسے شخص کو اگر راستہ چلتے کوئی ایسی چیز بھی مل جائے جس کی اسے ضرورت ہو اور جسے وہ خریدنا چاہے۔تو بھی اصل مقصد اور مدعا کے حاصل کرنے میں دیر ہو جانے کی وجہ سے وہ کہتا ہے۔چلو آتے وقت خرید لیں گے۔غرض رستہ چلنے والا راستہ میں جو عمل کرتا ہے۔کسی سے بات کرتا ہے۔کسی سے ملتا ہے۔کوئی قدم اٹھاتا ہے۔ہر وقت اس کے سامنے وہی بات رہتی ہے جس کے لئے وہ گھر سے نکلتا ہے۔اور وہ اس کا مقصد اور مدعا ہو جاتی ہے۔اور جو انفرادی اعمال ہوتے ہیں ان کا اس پر اثر نہیں پڑتا۔جو لوگ اپنا کوئی مقصد قرار دے لیتے ہیں۔ان کی اور حیثیت ہوتی ہے۔اور جو نہیں قرار دیتے ان کی اور اسلام میں پیدا ہو کر اس کو سچا مانے والے۔عیسائیت میں پیدا ہو کر عیسائیت کو سچا ماننے والے۔ہندوؤں میں پیدا ہو کر ہندو مذہب کو سچا ماننے والے جو اپنے اپنے مذہب کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔وہ ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔جو اپنا مقصد اور مدعا مذہب کو قرار نہیں دیتے۔اور جو لوگ مقصد قرار دے لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ انہیں اپنے مذہب کے ذریعہ دنیا میں صداقت قائم کرنی ہے۔وہ ساری زندگی اس میں لگا دیتے ہیں۔اور ہر کام جو وہ کرتے ہیں۔اس میں ان کے مد نظر یہی بات ہوتی ہے۔اب دیکھو ایک احمدی ہے یعنی ایسا شخص جس کے سامنے دلائل پیش کئے گئے اس سے مجھے اور مان لئے۔اور وہ احمدی بن گیا۔اب اگر اس کے احمدیت کے اقرار کو زبان سے ہٹا دیا جائے اس کے یقین کو دل سے نکال دیا جائے۔اور صداقت کے خیال کو دماغ سے علیحدہ کر دیا جائے۔تو وہ ویسے کا ویسا ہی رہ جائے گا جیسا کہ پہلے تھا۔کیونکہ احمدیت کا اس پر کوئی اثر نہ تھا۔اور اس نے احمدیت کو اپنا مقصد اور مدعا قرار نہ دیا۔لیکن جو مذہب کو اپنا مدعا اور مقصد قرار دے لیتا ہے۔وہ صداقت کو قبول کرنے پر ہی بس نہیں کرتا۔بلکہ اس کے ساتھ ہی کئی اور باتیں بھی دریافت کرنے لگ جاتا ہے۔مثلاً وہ پوچھے گا کہ جو تعلیم میں نے مانی ہے اس کا اثر انسان کی زندگی پر اس زمانہ میں یا مرنے کے بعد کیا پڑتا ہے۔پھر