خطبات محمود (جلد 7) — Page 173
سر ہے پس یہ باتیں نہایت ضروری ہیں جو آپ لوگوں کے مد نظر رہنی چاہئیں۔اول سابقون کا حق دوسرے مولفتہ القلوب کی رعایت تیرے دیانت داری سے رائے قائم کرنا اور جو فیصلہ کیا جائے اسے تسلیم کرنا۔رائے لگانے میں کس طرح جلد بازی سے کام لیا جاتا ہے۔اس کا پتہ اس سے لگتا ہے کہ جب ماسٹر محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر تھے تو مدرسوں میں سے ہی کئی میرے پاس آتے اور کہتے یہ خرابی ہے۔یہ نقص ہے۔میں نے ان کے کہنے پر نہیں بلکہ اور وجوہات سے ماسٹر محمد دین صاحب کی بجائے قاضی عبداللہ صاحب کو ہیڈ ماسٹر مقرر کر دیا۔اور انہیں منیجر بنا دیا۔اس پر کہا گیا کہ ماسٹر محمد دین صاحب لائق تھے۔اچھا کام کرتے تھے۔اب یہ نقص پیدا ہو گیا ہے۔یہ خرابی ہو گئی ہے۔اور بعض نے کہا مولوی شیر علی صاحب مقرر ہوں۔تو بہت اچھی بات ہوگی۔ہم نے اس شخص کی طرح جو ہر دل عزیز بننا چاہتا تھا۔مولوی شیر علی صاحب کو مقرر کر دیا۔اب خطوط آتے ہیں کہ تجربہ کاروں کو ہٹا کر دوسروں کے سپرد کام کر دیا گیا ہے۔کس طرح چلے گا۔اسی طرح ایک جلسہ کیا گیا۔جس میں ناظروں کو جمع کرکے کہا گیا کہ اپنے اپنے صیغوں میں تخفیف کریں۔مگر عین اس وقت جبکہ ہر محکمہ والا کہہ رہا تھا کہ میرے صیغہ میں یہ تخفیف کر دی جائے۔میرے صیغہ کا یہ خرچہ بند کر دیا جائے اور ۲۰ اور ۱۵ فیصدی تنخواہ کم کرنے کی تجویز ہو رہی تھی۔ایک بڑے ثقہ جو بڑے لوگوں میں سے ہیں۔انہوں نے مجھے لکھا کہ یہ لوگ غلط طور پر اپنے کاموں کی تعریفیں آپ کے سامنے کر کے کہتے ہیں۔تخفیف نہیں کرنی چاہئیے۔اس کے متعلق دوسرے لوگوں سے پوچھا جائے۔یہ ان کا محض قیاس تھا۔اور اصل واقع کے بالکل الٹ اور اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص تو جان قربان کر رہا ہو۔مگر دوسرا کہے کہ وہ مجھے زہر دینا چاہتا ہے۔رائے قائم کرنے کا صحیح اور درست طریق یہ ہے۔کہ جس کے متعلق رائے ہو۔اسے قائل کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر وہ قائل ہو جائے۔تو اچھی بات ہوگی۔اور اگر قائل نہ ہو تو سمجھ لیا جائے کہ اس بارے میں میرا بھی قیاس ہے اور اس کا بھی۔ہو سکتا ہے کہ میرا قیاس غلط ہو اور اس کا صحیح کیونکہ وہ کام کرنے والا ہے اور کام کی حقیقت کو مجھ سے زیادہ سمجھنے والا ہے۔یا پھر سمجھ لیا جائے کہ سابقون کی وجہ سے نیا مولفتہ القلوب کی وجہ سے رعایت کی جاتی ہے۔جو ان باتوں کو نظر انداز کر کے اعتراض کرتے ہیں۔ان کو ہم کہتے ہیں۔اگر مان بھی لیا جائے کہ ان کے اعتراض درست ہیں۔تو کیا وہ خود یہ کہنے کے لئے تیار ہیں کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔اگر وہ یہ کہدیں کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔تو میں ان کو عہدہ دار بنا دوں گا۔جو چار