خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 172

ہی ہوا۔پھر دنیاوی ترقی ان کو نہیں ملی۔ہم مغل اور پٹھان جو بہت پیچھے آئے۔ہمیں خدا نے دنیا کی حکومت دے دی۔مگر وہ انصار جنہوں نے رسول کریم کے لئے اور آپ کے ساتھ اپنے خون بہائے ان کو ایک ریاست بھی نہ دی۔صرف ایک فقرہ کی وجہ سے۔تو کبھی مولفتہ القلوب کو مال دینا پڑتا ہے۔کام میں ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔اور کبھی سابق ہونے کی وجہ سے تقسیم مال۔تقسیم درجہ اور تقسیم اموال کی جاتی ہے۔چنانچہ سب سے زیادہ رسول کریم کی بیویوں کو مال دیا جاتا تھا۔پھر بعد میں ایمان لانے والوں کو پھر ان سے بعد ایمان لانے والوں کو۔پھر سبقت کا لحاظ مدارج میں بھی رکھا گیا ہے۔اور عمل میں بھی۔دوسری بات مولفتہ القلوب ہے۔جو گویا سابق کی ضد ہے۔کہ تعلق کی کمی کی وجہ سے سلوک کیا جاتا ہے۔ایسے موقعہ پر بھی بعض لوگوں کو خیال آتا ہے۔کہ ہمیں نہیں دیا گیا۔اور فلاں کو دے دیا گیا۔حالانکہ اسے تو ایمان میں کامل نہ ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔اور اس لئے رعایت کی گئی ہے۔کہ ٹکا رہے۔مگر تم مضبوط ایمان والے ہو۔اس لئے تمہیں نہیں دیا گیا۔کیا تم بھی ویسا ہی بننا چاہتے ہو۔تیسرا امر جس کو پہلے بھی بیان کر آیا ہوں۔قیاس اور رائے ہے۔ایک اچھی سے اچھی چیز کے متعلق سوکی سو رائے ہو سکتی ہے کیونکہ ایک ہی چیز کے متعلق ہر ایک الگ الگ رائے قائم کرے گا۔اور یہ ممکن نہیں کہ سب کی رائے کسی معالمہ کے متعلق ایک ہو۔مجسٹریٹ ایک فیصلہ کرتا ہے۔جو صحیح بھی ہو سکتا ہے۔اور غلط بھی۔اس کی آگے اپیل کی جاتی ہے۔اپیل پر جو فیصلہ ہو وہ بھی غلط ہو سکتا ہے اور صحیح بھی پھر اس کی اور آگے اپیل ہو سکتی ہے۔اس پر بھی جو فیصلہ ہو گا۔وہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔اور صحیح بھی۔لیکن آخر کسی جگہ جا کر یہ سلسلہ ختم بھی ہوگا۔یا اپیل در اپیل ہی ہوتی رہے گی۔باوجود اس کے کہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آخری فیصلہ بھی غلط ہو۔لیکن کام چلانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ختم کیا جائے۔ورنہ سارا ملک ہی ہائی کورٹیں بنانا پڑے۔تو عقلاً بھی یہ ضروری ہے۔کہ ایک جگہ آخری فیصلہ ہو جائے اور پھر اس سے آگے سلسلہ نہ چلے۔ورنہ ہر ایک انسانی عدالت کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے اس کا فیصلہ غلط ہو۔اور اس طرح کا سلسلہ آخر خدا تعالیٰ تک جاکر ختم ہو۔کہ خدا تعالٰی فیصلہ کرے۔لیکن اعتراض کرنے والے اس پر بھی اعتراض کر ہی دیتے ہیں۔پس جو شخص بھی فیصلہ کرے گا اس کی رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی۔لیکن آخر مانا پڑتا ہے۔کہتے ہیں عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں۔اس لئے ان کو مردوں کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔لیکن کیا سارے کے سارے مرد صحیح اور درست ہی فیصلہ کرتے ہیں۔ہرگز نہیں لیکن گھر کا انتظام چلانے کے لئے ایک حد مقرر کر دی گئی۔کہ مرد کا فیصلہ تسلیم کر لیا جائے۔